وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو سٹریٹ موومنٹ کیلئے پنجاب آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے چاروں ریجنز کے نمائندے فیصلہ کریں کہ انہیں صوبے میں کہاں آنا ہے، لاہور کا پلان پنجاب کی قیادت دے گی، جبکہ پنجاب آنا ان کا کام ہوگا۔پی ٹی آئی پنجاب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ ان کا حق ہے اور وہ ضرور پنجاب آئیں گے۔ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی پنجاب کے نمائندوں سے کہا کہ چاروں ریجنز کے نمائندے فیصلہ کریں کہ انہیں پنجاب میں کہاں آنا ہے، لاہور کا پلان پنجاب کی قیادت نے دینا ہے، جبکہ پنجاب آنا ان کا کام ہے۔وزیراعلی نے اعلان کیا کہ وہ لاہور پہنچیں گے اور سٹریٹ موومنٹ میں شرکت کریں گے۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں احتجاج کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کے کسی کارکن کو گولی ماری گئی تو وہ سخت ردعمل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر گولی مارنی ہے تو انہیں ماری جائے اور کسی کارکن پر گولی چلانے کی کوشش نہ کی جائے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی کارکن کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔وزیراعلی نے رانا ثنا اللہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کو ساتھ لانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف پرامن جماعت ہے اور اگر ایسے بیانیے کے ذریعے کوئی سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی پنجاب کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام انتظار کر رہے ہیں اور کارکنوں کو اپنی ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگ صرف 300 افراد نہیں بلکہ 13 کروڑ ہیں اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں متحرک ہونا ہوگا۔ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے نزدیک انتہائی قیمتی ہیں، اگر ڈاکٹر یاسمین راشد جیل کاٹ سکتی ہیں تو وہ بھی جیل جانے کے لیے تیار ہیں، اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔وزیراعلی نے کہا کہ ان کے نزدیک سٹریٹ موومنٹ سیاسی جماعت کا حق ہے اور کارکنوں کو اس حوالے سے متحرک ہونا چاہیے۔







