پشاور ہائی کورٹ میںکوہستان کرپشن سکینڈل میں نامزد خاتون (مس عطیہ)کی جانب سے نیب کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، اس دوران عدالت نے نامزد خاتون کی گرفتاری روک دی،اور حکم دیا کہ نیب انکوائری کرے، درخواست گزارہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران عدالت نے نیب کو درخواست گزارہ کی گرفتاری سے روکتے ہوئے قرار دیا کہ نیب انکوائری کرے، تاہم درخواست گزارہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔کیس میں درخواست گزار خاتون نے نیب کی جانب سے جاری کیے گئے پیشی کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔درخواست گزارہ کے وکیل حسنین طارق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی جانب سے مس عطیہ کو پیشی کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ، اور درخواست گزارہ سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے اکانٹ میں رقم منتقل ہوئی ہے۔وکیل صفائی نے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزارہ کے شوہر کے خلاف نیب کی انکوائری جاری ہے اور وہ عبوری ضمانت پر ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزارہ کو ان کے شوہر کے اکانٹ سے رقم منتقل ہوئی تھی، جس کے بعد نیب نے خاتون کو پیشی کا نوٹس جاری کیا ہے۔سماعت کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے نیب کو درخواست گزارہ کی گرفتاری سے روک دیا اور انکوائری جاری رکھنے کی ہدایت کی۔یوں کوہستان سکینڈل سے متعلق کیس میں نامزد خاتون کو فی الحال نیب کی گرفتاری سے عدالتی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔







