سعودی قیادت اور عوام کیساتھ اظہارِ یکجہتی ‘مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحادہے

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جانے لگا ہے، جہاں سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر حوثیوں کا حملہ ہوا ہے، جس میں حوثیوں نے متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ سعودی قیادت میں اتحاد سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے حوثیوں کے حملوں کا مناسب جواب دے گا۔حالیہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آ رہی ہے۔دوسری جانب یمن کے صوبہ الضالع میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر حملے اور گھیرا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا، جبکہ وزیر دفاع کے محصور ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم وزیر دفاع کے اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور واقعے کی حتمی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہی ہیں۔تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔یمن میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات صرف زمینی محاذ تک محدود نہیں، بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یمن میں بڑھتی کشیدگی سے تجارتی جہاز رانی اور علاقائی سکیورٹی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed