پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں نگران حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے ٹیچنگ اور انتظامی عملے کی برطرفی کا صوبائی مراسلہ غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔ 40 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ یونیورسٹیز اپنے یکٹ اور سینڈیکیٹ کے تحت چلنے والے خودمختار ادارے ہیں، جن پر صوبائی حکومت کا عمومی برطرفی ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر کومل اور دیگر کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تمام متاثرہ ملازمین کو سابقہ تاریخوں سے مکمل تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔







