ماچس سے پٹرول تک ٹیکس کا عذاب

تحریر: عباس مہد

کسی بھی آزاد، باوقار اور ترقی یافتہ ریاست کے نظام کو چلانے، عمرانی معاہدو ں کی پاسداری کرنے، عوامی فلاح کے منصوبے تشکیل دینے اور ملک کے اجتماعی ڈھانچے کی استواری کے لیے ٹیکس کا نظام ایک ناگزیر ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی مہذب قوموں میں ٹیکس کا بنیادی فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ صاحبِ ثروت اور متمول طبقات کی آمدن سے ایک خاص تناسب سے پیسہ لے کر اسے معاشرے کے نچلے، محروم اور پسے ہوئے طبقات کی بہبود، صحت، تعلیم، اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی پر خرچ کیا جائے۔ لیکن ارضِ پاک کی سات دہائیوں پر محیط معاشی تاریخ اور موجودہ سٹریٹجک صورتحال پر اگر ایک گہری اور تحقیقی نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت کھلی کتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ یہاں ٹیکس کا یہ فلاحی تصور بالکل الٹ چکا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا نظام غریب سے لے کر امیر کی طرف دولت کی منتقلی اور غریب عوام کو زندہ درگور کرنے کا ایک بھیانک اور بے رحم ذریعہ بن چکا ہے۔ آج ملک کا عام شہری، دہقان، مزدور اور متوسط طبقہ معاشی ابتری اور افراطِ زر کے اس ہولناک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک عذاب بن چکا ہے، مگر اس کے باوجود ریاست کا بے رحم ٹیکس دہندہ شکنجہ اس کی آخری سانسوں تک کا تعاقب کر رہا ہے۔اس معاشی المیے اور ٹیکس کے نظام کے ڈھانچاجاتی نقائص کا اگر گہرا اور تحقیق پر مبنی تجزیہ کیا جائے تو سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ "براہِ راست” (Direct Taxes) اور "بالواسطہ” (Indirect Taxes) کے درمیان قائم وہ خطرناک توازن ہے جو عالمی معاشی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔ دنیا کے بیشتر متوازن ممالک میں براہِ راست ٹیکس، یعنی فرد یا ادارے کی حقیقی آمدنی اور جائداد پر لگنے والے ٹیکس کا تناسب ستر سے اسی فیصد ہوتا ہے، تاکہ جو جتنا زیادہ کما رہا ہے وہ اسی تناسب سے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں کہانی بالکل مختلف اور بھیانک ہے۔ ہمارے ہاں کل ٹیکس وصولی کا ایک بہت بڑا حصہ جو تقریبا ساٹھ سے ستر فیصد کے درمیان ہے بالواسطہ یعنی ان ڈائریکٹ ٹیکسوں پر منحصر ہے۔ بالواسطہ ٹیکس کا سب سے غیر انسانی اور ظالمانہ پہلو یہ ہے کہ یہ غریب اور امیر کے درمیان کی تمام تر تمیز کو ختم کر دیتا ہے۔ جب ایک ارب پتی صنعت کار یا جاگیردار بازار سے ماچس کی ایک ڈبی، نمک کا ایک پیکٹ، صابن، یا سوئی خریدتا ہے، تو وہ اس پر اتنا ہی سیلز ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز ادا کرتا ہے جتنا کہ دن بھر کڑی دھوپ میں مزدوری کر کے چند سو روپے کمانے والا ایک غریب دیہاڑی دار مزدور ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا غیر عادلانہ معاشی نظام ہے جو غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر اشرافیہ کی مراعات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔عوام پر روزمرہ زندگی میں پڑنے والے اس غیر مرئی معاشی بوجھ کی تحقیقی فہرست اگر تیار کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری صبح بیدار ہونے سے لے کر رات کو سونے تک، چاہے وہ کوئی معاشی سرگرمی کرے یا نہ کرے، ہمہ وقت ریاست کو ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہے۔ ماچس کی ڈبی سے لے کر باورچی خانے کے نمک، مرچ، گھی، دالوں، چائے کی پتی، بچوں کے دودھ، ادویات اور کاپی کتابوں تکہر شے پر جنرل سیلز ٹیکس (GST)، ودہولڈنگ ٹیکس اور مختلف چھپے ہوئے لیس اور چارجز عائد ہیں۔ جب ایک عام شہری دکان سے اشیائے خورونوش خریدتا ہے، تو اس کی ادا کردہ رقم کا ایک بڑا حصہ مصنوعات کی اصل قیمت کے بجائے ریاست کے مختلف ہدف زدہ ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ غریب شہری کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ اپنی انتہائی محدود اور کٹوتی شدہ آمدن سے روزانہ کی بنیاد پر کس طرح ریاستی مشینری کا پیٹ بھر رہا ہے، مگر اس کے بدلے میں اسے نہ تو صاف پینے کا پانی میسر ہے، نہ معیاری تعلیم، نہ ہسپتالوں میں مفت ادویات اور نہ ہی جان و مال کا تحفظ۔روزمرہ کی عام اشیا کے علاوہ، توانائی کا شعبہ عوام پر معاشی تازیانے برسا نے کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ بجلی کے بلوں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عام صارف کے بل میں صرف استعمال شدہ یونٹوں کی قیمت شامل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ٹیکسوں کی ایک لمبی اور پیچیدہ قطار لگی ہوتی ہے۔ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ٹی وی فیس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA)، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے کا بوجھ، اور کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ جیسے درجنوں ظالمانہ چارجز مل کر بل کی اصل رقم کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دیتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے گرمیوں کے موسم میں بجلی کا بل ایک ہولناک خواب بن چکا ہے، جس کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو اپنے گھر کا زیور، برتن اور مویشی تک بیچنے پڑتے ہیں۔ یہی حال گیس کے بلوں کا ہے، جہاں صارفین پر گیس کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ فکسڈ چارجز اور میٹر رینٹ کے نام پر ماہانہ بھاری رقم تھوپ دی جاتی ہے۔ پانی کے بلوں اور بلدیاتی ٹیکسوں کی صورت میں بھی عوام سے مسلسل رقم اینٹھی جاتی ہے، جبکہ نلوں میں پانی کی جگہ صرف ہوا آتی ہے اور عوام کو ٹینکر مافیا کی منتیں کرنی پڑتی ہیں۔ٹیکسوں کی اس بھیانک لڑی میں سب سے تباہ کن اور ہمہ گیر اثر رکھنے والا عنصر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس ہے۔ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں کا ایندھن نہیں ہیں، بلکہ یہ پوری ملکی معیشت کی شریانیں ہیں۔ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) اور دیگر کسٹمز ڈیوٹیز کی صورت میں حکومت پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت پر بھاری رقم وصول کرتی ہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی والے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کھیت سے منڈی تک انے والی سبزیاں، غلہ، دودھ، اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی خود بخود مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی ٹیوب ویل اور ٹریکٹر کا خرچہ بڑھتا ہے، جس سے کسان کی پیداواری لاگت آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ یوں پٹرولیم پر لگایا جانے والا ایک روپیہ ٹیکس عام مارکیٹ میں غریب کے لیے سو روپے کی مہنگائی کا باعث بن جاتا ہے، اور افراطِ زر کا ایک ایسا طوفان اٹھتا ہے جو متوسط طبقے کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیتا ہے۔اس تمام معاشی المیے کا سب سے دردناک اور تحقیقی پہلو یہ ہے کہ جہاں ایک طرف نچلا اور متوسط طبقہ ٹیکسوں کے اس بوجھ تلے دم توڑ رہا ہے، وہاں دوسری طرف ملکی اشرافیہ، بڑے سیاسی و اقتصادی گروہ، جاگیردار، بڑے تاجر، اور بااثر طبقے ٹیکس نیٹ سے بالکل باہر ہیں یا برائے نام ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ملکی معیشت کے بڑے بڑے شعبے جن کا جی ڈی پی میں اربوں روپے کا حصہ ہے، وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ٹیکس استثنی (Tax Exemptions) اور مراعات کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ حکومتوں کی ناہلی اور ایف بی آر (FBR) کی ناکامی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی معاشی خسارہ پورا کرنا ہوتا ہے یا عالمی مالیاتی اداروں (IMF) کی شرائط کو پورا کرنا ہوتا ہے، تو آسان ترین طریقہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان، ملازم پیشہ طبقے اور عام عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال دیا جائے۔ تنخواہ دار طبقہ، جس کی آمدن سے پہلے ہی سورس پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، اس مہنگائی اور مزید ٹیکسوں کے دبا میں پستا چلا جا رہا ہے۔اس ظالمانہ اور غیر مساوی معاشی ساخت کے نتائج انتہائی ہولناک اور سماجی بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ جب ایک عام شہری اپنی خون پسینے کی کمائی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرنے کے بعد بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رہتا ہے، تو ریاست اور شہری کے درمیان قائم عمرانی معاہدہ تار تار ہو جاتا ہے۔ معاشی تنگ دستی کی وجہ سے عوام میں خودکشیوں کے رجحان میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، باپ اپنے بچوں کو زہر دینے پر مجبور ہو رہے ہیں، جرم اور سٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں، اور جوان نسل مایوس ہو کر غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑنے یعنی "برین ڈرین” پر مجبور ہے۔ جب محنت کش کی اجرت کا بڑا حصہ ریاست کے بے رحم ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی نذر ہو جائے گا تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دلوائے گا؟ ان کا علاج کیسے کروائے گا؟ اور ان کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج پاکستان کے گلی کوچوں میں گونج رہے ہیں۔اگر ریاست کو اپنی معاشی بقا، قومی سلامتی اور سماجی استحکام کو بچانا ہے تو ٹیکس کے اس پرانے، ظالمانہ اور غیر عادلانہ نظام کو فوری طور پر یکسر بدلنا ہوگا۔ زبانی جمع خرچ، روایتی بجٹ کی تقاریر اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی اب اپنے آخری حدوں کو چھو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر بالواسطہ ٹیکسوں کے تناسب کو کم کرے اور براہِ راست ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دے۔ بڑے جاگیرداروں، رئیل اسٹیٹ کے بڑے ٹائیکونز، اور ٹیکس چور صنعت کاروں کو بلا امتیاز ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ طرزِ حکومت میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن لائی جائے تاکہ ایف بی آر کا کالیپوٹ اور کرپشن ختم ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات، اشرافیہ کی مراعات، مفت پٹرول، مفت بجلی اور شاہانہ پروٹوکول کو فوری طور پر ختم کر کے ان کے اخراجات کو عوام کی ریلیف پر خرچ کیا جائے۔ اگر اب بھی ریاست نے اپنے رویے اور پالیسیوں میں بنیادی اور انقلابی تبدیلی نہ کی، اور غریب عوام کی سسکیوں کو نظر انداز کر کے ٹیکس کا یہ تازیانہ یونہی چلاتا رہا، تو معاشی ابتری کا یہ طوفان پورے سماجی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے بجائے بااثر طبقے کو قانون اور ٹیکس کا پابند بنایا جائے تاکہ پاکستان معاشی خودمختاری اور انصاف کی راہ پر گامزن ہو سکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed