پاکستان اور مصر نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنے اور تنازع پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ دونوں کے درمیان خطے میں کشیدگی میں کمی، امن و استحکام کی بحالی سے متعلق کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ نے علاقائی سلامتی کے معاملات پر رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اسحاق ڈار کو جلد مصر کے دورے کی دعوت بھی دی۔دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی اور علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی جبکہ مکہ دفاعی معاہدیکی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پربھی بات چیت کی۔اس کے علاوہ ٹیلیفونک گفتگو میں استنبول اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے قریبی روابط برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔کی وزارتِ معیشت نے جنگ کے دوران پیدا شدہ معاشی مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کیلئے خصوصی اقتصادی جنگ ہیڈکوارٹر قائم کردیا ۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم اور مہر ایجنسی کے مطابق یہ ٹاسک فورس وزارتِ معیشت کے تحت کام کرے گی اور اس کا مقصد جنگ کی صورتحال کے دوران کاروبار، تجارت، مالی معاملات اور دیگر معاشی شعبوں کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرکے انہیں جلد حل کرنا ہے۔ایران کے نائب وزیرِ معیشت مرتضی زمانیان نے بتایا کہ اس نئے نظام کے ذریعے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو مرکزی سطح پر دیکھا جائے گا اور ان کے عملی حل تلاش کیے جائیں گے۔مرتضی زمانیان کے مطابق اس ٹاسک فورس کا بنیادی کام جنگ سے پیدا ہونے والے مسائل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے لیے عملی حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کے حل کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری اداروں کی ضرورت ہوئی تو مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بھی بہتر بنایا جائے گا تاکہ معاملات سرکاری دفتروں کی کارروائی میں پھنس کر تاخیر کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹاسک فورس ابتدائی طور پر وزارتِ معیشت کے دائرہ اختیار میں آنے والے معاملات پر توجہ دے گی، تاہم ایسے مسائل جو وزارت کے اختیار سے باہر ہوں، انہیں حکومت کے اعلی معاشی اداروں اور اقتصادی کمیشن کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا۔ایران کو ایک طرف جاری جنگ کی وجہ سے معاشی دبا کا سامنا ہے تو دوسری جانب کئی برس سے عائد امریکی پابندیوں نے بھی اس کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جن کا مقصد تہران کو عالمی مالی اور تجارتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا بتایا گیا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نئی ٹاسک فورس کا مقصد جنگ کے دوران معیشت کو درپیش مشکلات کے حل میں تیزی لانا اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا ہے۔تاہم ایران کو درپیش معاشی دبا کی شدت اور نئی پابندیوں کے اثرات کے باعث آنے والے دنوں میں اس اقدام کی کامیابی ایک اہم چیلنج ہوگی۔ ایران کی معیشت پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ جنگی حالات میں تجارت، کاروبار، سرمایہ کاری اور مالی معاملات پر مزید دبا پڑنے کا خدشہ ہے۔ نئی ٹاسک فورس کے ذریعے ایرانی حکومت جنگ کے دوران ان مسائل پر تیزی سے قابو پانے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے







