باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ دور کا خزانہ دریافت

ڈنمارک میں ایک گھر کے باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ دور کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا خزانہ دریافت کر لیا گیا، جس میں تقریبا 700 قیمتی اشیا شامل ہیں۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ غیر معمولی خزانہ رِینِلڈ کے علاقے میں ایک مکان کے مالک کو اس وقت ملا جب وہ گھر کے باہر نیا ٹائل والا ٹیرس بنانے کے لیے گھاس، پتھر اور بجری ہٹا رہا تھا۔ حیران کن طور پر دریافت صرف آدھے گھنٹے کی کھدائی کے بعد سامنے آگئی۔ماہرین کے مطابق تقریبا 320 اشیا اب بھی مٹی کے اپنے اصل برتن میں موجود تھیں، جن کا مجموعی وزن 6.4 کلو گرام ہے۔ باقی نوادرات اسی مقام کے اردگرد مٹی میں بکھرے ہوئے ملے۔خزانے میں چاندی کے کنگن، چاندی کی سلاخیں، سکے اور مختلف نوادرات شامل ہیں۔ ان میں ایک انتہائی چھوٹا ہتھوڑا بھی ملا ہے جسے نورس دیوتا تھور سے منسوب کیا جا رہا ہے۔دریافت ہونے والے خزانے میں 47 مکمل سکے اور سکے کے ٹکڑے بھی شامل ہیں جبکہ چاندی کے کاٹے گئے ٹکڑوں سمیت متعدد دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ خزانہ 10 ویں صدی میں وائکنگ عہد کے دوران زمین میں دفن کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed