شینزن: ایشیا پیسیفک میڈیا فورم (APMF) میں شریک 42 سے زائد ممالک کے مندوبین نے آج شینزن میں معروف چینی آٹو موبائل کمپنی BYD کا دورہ کیا، جہاں انہیں کمپنی کی شاندار ترقی، جدید ٹیکنالوجی، جدید پیداواری نظام اور آٹو موبائل صنعت میں جدت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران بین الاقوامی صحافیوں کو بی وائی ڈی کی تاریخ، تحقیق و ترقی، مینوفیکچرنگ کے عمل، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور عالمی سطح پر کمپنی کی توسیع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ کمپنی کی وسیع پیداواری صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں کو بے حد متاثر کیا۔بی وائی ڈی کی مینوفیکچرنگ کا نظام دورے کا سب سے متاثر کن پہلو تھا۔ کمپنی نے تحقیق، ڈیزائن، بیٹری، الیکٹرک موٹر، الیکٹرانک سسٹمز اور گاڑیوں کی تیاری کو ایک مربوط صنعتی نظام میں شامل کر رکھا ہے۔ اس عمودی انضمام کی بدولت کمپنی اپنی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی متعدد بنیادی ٹیکنالوجیز خود تیار کرتی ہے۔ بی وائی ڈی صرف الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی نہیں بلکہ اس کے وسیع پروڈکٹ پورٹ فولیو میں بیٹری الیکٹرک گاڑیاں، پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں، مسافر کاریں، ایس یو ویز، ایم پی ویز، کمرشل گاڑیاں، بسیں، ٹرک اور دیگر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ کمپنی اپنی پاور بیٹریز اور گاڑیوں کی دیگر بنیادی ٹیکنالوجیز بھی خود تیار کرتی ہے۔کمپنی کی پیداواری اور فروخت کی صلاحیت بھی حیران کن ہے۔ 2025 میں بی وائی ڈی نے دنیا بھر میں 46 لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت کیں، جس سے وہ دنیا کی سب سے بڑی نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی کمپنیوں میں شامل ہوگئی۔ بیرونِ ملک مسافر گاڑیوں اور پک اپ ٹرکس کی فروخت 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ بی وائی ڈی کی نئی توانائی والی گاڑیاں 119 ممالک اور خطوں میں پہنچ چکی ہیں۔

کمپنی نے انتہائی مختصر عرصے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ دسمبر 2025 میں بی وائی ڈی نے اپنی ڈیڑھ کروڑ ویں نئی توانائی والی گاڑی تیار کرنے کا سنگِ میل عبور کیا، جبکہ جولائی 2026 میں یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔ یوں بی وائی ڈی دنیا کی پہلی کمپنی بن گئی جس نے نئی توانائی والی 17 ملین گاڑیاں تیار کرنے کا سنگِ میل عبور کیا۔مندوبین نے خاص طور پر اس بات کو سراہا کہ بی وائی ڈی نے گاڑی کی تیاری کے تقریبا ہر مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کیا ہے۔ خودکار مشینری، ذہین پیداواری نظام، جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور سخت کوالٹی کنٹرول اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید چینی مینوفیکچرنگ کس تیزی سے اسمارٹ اور مثر پیداواری نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بی وائی ڈی کی کامیابی میں تحقیق اور ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کمپنی نے 2025 میں تحقیق و ترقی پر 63.4 ارب یوآن خرچ کیے، جبکہ دنیا بھر میں اس کے تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ماہرین کام کر رہے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے بی وائی ڈی کا یہ دورہ محض ایک آٹو موبائل کمپنی کا دورہ نہیں تھا بلکہ انہیں یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ کس طرح ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور جدید مینوفیکچرنگ چین کی آٹو موبائل صنعت کو تبدیل کر رہی ہے۔اے پی ایم ایف کے مندوبین نے اس تجربے کو حیران کن اور چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی وائی ڈی کی جدید ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے چین کی تیز رفتار صنعتی اور تکنیکی ترقی کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ملا ہے۔








