قبائلی اضلاع میں تعینات خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں کا اپنے مطالبات کے حق میں بابِ خیبر پر جاری احتجاجی دھرنا تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ احتجاجی کمیٹی نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں آج سے ضلع مہمند کے تمام تھانوں میں ایف آئی آرز، روزنامچوں اور پولیسنگ سے متعلق دیگر امور میں تعاون روکنے کا اعلان کردیا ہے۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے احتجاجی کمیٹی کے سربراہ سید جلال نے کہا کہ حکومت نے خاصہ دار اور لیویز فورس کے 22نکاتی مطالبات پر فوری پیش رفت نہ کی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ احتجاجی اہلکار آج سے ضلع مہمند کے تمام تھانوں میں ایف آئی آرز اور روزنامچوں کے اندراج سمیت پولیسنگ سے متعلق دیگر امور میں تعاون نہیں کریں گے۔سید جلال کے مطابق قبائلی اضلاع میں تعینات خاصہ دار اور لیویز اہلکار ضلعی پولیس افسران کے احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کریں گے۔احتجاجی اہلکاروں کا مطالبہ ہے کہ خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس کے برابر حقوق، مراعات اور باقاعدہ سروس اسٹرکچر دیا جائے، جبکہ سابقہ خاصہ دار فورس کو پولیس میں مکمل طور پر ضم کیا جائے۔ انہوں نے شہدا کے خاندانوں کے لیے شہدا پیکج سمیت دیگر مراعات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں نے قیامِ امن کے لیے مشکل حالات میں فرائض انجام دیے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فورس کے اہلکار اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلے کو طاقت یا دبا کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔سید جلال نے حکومت پر زور دیا کہ احتجاجی فورس کے نمائندوں کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اور 22 نکاتی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی پیش رفت کی جائے۔بابِ خیبر پر جاری دھرنے میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکار بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ احتجاجی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج مزید سخت اور وسیع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد خاصہ دار اور لیویز فورس کے سروس اسٹرکچر، مراعات، مستقبل اور پولیس میں انضمام سے متعلق مختلف مطالبات اور تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ موجودہ احتجاج میں اہلکاروں نے اپنے 22 نکاتی ایجنڈے کی منظوری کو بنیادی مطالبہ قرار دیا ہے۔







