ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارک اور ابوموسی پر راکٹ حملے کیے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے تسلیم کرلیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی خاطر دھوکا دے کر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا اور اسرائیلی وزیراعظم کو سانپ قرار دیا۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات ایران کے دونوں جزائر کو HIMARS راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا ۔عراقچی نے کہا ایرانی فورسز نے حملوں کے لانچ پوائنٹس کا سراغ لگایا جن میں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب ایک مقام شامل تھا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب یہ واضح ہے کہ راکٹ متحدہ عرب امارات سے فائر کیے گئے، اور پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملے کے لئے استعمال کرنا بالکل ناقابل قبول ہے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ گنجان آباد علاقوں کے قریب سے راکٹ داغنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ عبرانی زبان میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کھلے الفاظ میں مان لیا ہے کہ انہوں نے امریکا کو ایران جنگ میں شامل ہونے کیلئے بے وقوف بنایا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو واضح طور پر اس بات پر ہنس رہے ہیں کہ امریکی ٹی وی نیٹ ورکس پر ایک ہزار گھنٹے ائیر ٹائم حاصل کرکے وہ کس طرح امریکا پر اثرانداز ہوئے۔تاہم انگریزی میں تو نیتن یاہو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہ رہے ہیں۔ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم کو سانپ قرار دیا۔واضح رہے کہ اپنے حالیہ خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ 40 سال سے ایران سے ڈیل کررہے ہیں۔انہیں بہت وقت لگا کہ وہ اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ایران اور اس کی شاخوں کے خلاف کارروائی پرآمادہ کرسکیں۔







