پیٹرولیم لیوی کا جبر اور زراعت کی تباہی!

تحریر: عباس مہد
ریاست اور شہری کے درمیان قائم "عمرانی معاہدے” کی رو سے ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے جس کا بنیادی فریضہ اپنے کمزور ترین طبقے کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن جب کوئی ریاست اپنے ہی شہریوں کو کارپوریٹ مافیا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، تو وہ ریاست ماں نہیں بلکہ ایک بے رحم استحصالی مشین بن جاتی ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ ظالمانہ نظام اس استحصالی مشین کی سب سے بھیانک اور ننگی تصویر ہے۔ اگر آپ سیاسیات، معاشیات اور سماجی نفسیات کے عمیق زاویوں سے اس نظام کا ساختیاتی مطالعہ کریں، تو آپ کی روح کانپ اٹھے گی کہ کس طرح ایک بائیس کروڑ عوام کے مقدر سے کھیلا جا رہا ہے۔ جب رات کی تاریکی میں عوام سو رہے ہوتے ہیں، تو اچانک ایک ظالمانہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پیٹرول کی قیمت میں بیس سے بائیس روپے فی لیٹر کا ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ چند گھنٹوں میں ملک کے طول و عرض میں ہر پیٹرول پمپ پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس، جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زمین پر آ گرتی ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کا وقت آتا ہے، تو اچانک حکومتی ایوانوں میں بیوروکریسی کی حرکت مفلوج ہو جاتی ہے۔ کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں، طویل مشاورتی اجلاسوں کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، اور کئی دنوں کی اعصاب شکن بحث کے بعد محض چند پیسوں یا ایک دو روپے کی کمی کا احسان اس طرح جتایا جاتا ہے جیسے عوام کو کوئی بہت بڑی فتح نصیب ہو گئی ہو۔ فیصلہ سازی کا یہ دوہرا معیار اور منافقت کسی بھی باشعور قاری اور تجزیہ نگار کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر اس نظام کی ڈوریاں کن بے رحم ہاتھوں میں ہیں؟اس معاشی ظلم کی تہہ میں اگر اترا جائے تو سب سے بھیانک عفریت "پیٹرولیم لیوی” کی صورت میں نظر آتا ہے۔ علمِ معاشیات میں ٹیکس لگانے کا ایک بنیادی اصول ہے جسے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کہا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر مہذب حکومت ڈائریکٹ ٹیکس لگاتی ہے، یعنی جو جتنا امیر ہے، وہ اتنی ہی زیادہ ریاست کو فیس دے گا۔ لیکن پاکستان کا حکمران طبقہ، جاگیردار اور سرمایہ دار چونکہ خود ڈائریکٹ ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں، اس لیے انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہداف پورے کرنے کے لیے سب سے بزدلانہ راستہ چنا ہے، اور وہ راستہ ان ڈائریکٹ ٹیکس یعنی پیٹرولیم لیوی ہے۔ لیوی وہ جابرانہ ہتھکنڈا ہے جو ایک ارب پتی کی پرتعیش گاڑی اور ایک غریب مزدور کی خستہ حال موٹر سائیکل پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ جب حکومت پیٹرول پر ساٹھ یا ستر روپے فی لیٹر لیوی وصول کرتی ہے، تو دراصل وہ اشرافیہ کا معاشی بوجھ غریب کی ہڈیوں کا گودا نکال کر پورا کر رہی ہوتی ہے۔ یہ محض ایندھن کی قیمت نہیں ہے، یہ وہ نادیدہ خنجر ہے جو ہر روز غریب عوام کی قوتِ خرید کے سینے میں اتارا جاتا ہے۔اس ظالمانہ قیمت اندازی کا سب سے خوفناک اور تباہ کن اثر ہماری زراعت پر پڑا ہے۔ پاکستان، جس کا خمیر اور جس کی بقا ہی دریائے سندھ کی وادیوں اور اس کی زرعی زمینوں سے جڑی ہے، آج اپنے ہی کسانوں کے لیے ایک مقتل گاہ بن چکا ہے۔ پیٹرول اور خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے پورے زرعی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ کسان جو پہلے ہی کھادوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور بیج مافیا کے ہاتھوں لٹ رہا تھا، اب اس کے لیے ٹریکٹر چلانا اور فصلوں کو پانی دینے کے لیے ٹیوب ویل کا استعمال کرنا معاشی خودکشی کے مترادف ہو چکا ہے۔ جب ڈیزل کی قیمت بیس روپے راتوں رات بڑھتی ہے، تو کھیت سے منڈی تک جنس لے جانے والا ٹرک کا کرایہ دگنا ہو جاتا ہے۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گندم جو غریب کا آخری نوالہ تھی، وہ اس کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکی ہے۔ یہ کیسی بدقسمتی اور کیسا المیہ ہے کہ ایک زرعی ملک کا کسان، جو پوری قوم کا پیٹ پالتا ہے، آج اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہے کیونکہ ریاست نے زراعت کے بنیادی ایندھن کو ہی امرا کی عیاشیوں کا بل ادا کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اس پورے منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ، حیران کن اور تجزیہ طلب پہلو یہ ہے کہ ہم درحقیقت ایک ایسے ملک میں جی رہے ہیں جو قدرت کے عطا کردہ خزانوں پر بیٹھا ہوا ہے لیکن اس کے حکمرانوں نے عوام کے ہاتھوں میں کشکول تھما دیا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے ارضیاتی اور جغرافیائی حقائق کا سائنسی مطالعہ کریں تو بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، سندھ کی ریتلی زمینوں اور خیبر پختونخوا کے وسیع و عریض علاقوں میں تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ سمندری حدود میں تیل کے اتنے بڑے ذخائر کی نشاندہی کئی بین الاقوامی سروے رپورٹس میں ہو چکی ہے جو پاکستان کو دہائیوں تک توانائی کے بحران سے آزاد کر سکتے ہیں۔ پوٹھوہار کے خطے سے لے کر کوہاٹ اور کرک کے علاقوں تک، زمین کے سینے میں بلیک گولڈ (خام تیل) اور قدرتی گیس کا وہ سمندر موجزن ہے جسے اگر ایمانداری اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جائے تو ہمیں مشرق وسطی سے تیل کا ایک قطرہ بھی امپورٹ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ لیکن یہ وسائل آج تک زمین کے اندھیروں میں کیوں دفن ہیں؟ ہماری حکومتیں ان مقامی وسائل کو نکال کر عوام کو براہِ راست اور سستا ایندھن فراہم کرنے میں مجرمانہ غفلت کا شکار کیوں ہیں؟یہاں آ کر علمِ سیاسیات کا وہ کڑوا سچ سامنے آتا ہے جسے "امپورٹ مافیا اور رینٹ سیکنگ” کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے مقدر پر قابض کارپوریٹ اشرافیہ، بیوروکریسی کا ایک مخصوص طبقہ اور سیاسی فیصلہ ساز دراصل ایک ایسے گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں جن کا پورا معاشی وجود ہی درآمدات یعنی امپورٹ کے کمیشن پر کھڑا ہے۔ اگر پاکستان کے اپنے ذخائر سے تیل نکلنا شروع ہو جائے اور ملکی ریفائنریاں اپنی پیداوار عوام کو سستے داموں دینے لگیں، تو ہر سال اربوں ڈالر کا جو خام تیل بیرون ملک سے منگوایا جاتا ہے، اس میں سے ملنے والے اربوں روپے کے کمیشن، کک بیکس اور پرکشش ٹھیکے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ یہ ایک منظم اور ادارہ جاتی سازش ہے جس کے تحت مقامی وسائل کی تلاش کے محکموں، جیسے او جی ڈی سی ایل کو سیاسی مداخلت، نااہلی اور فنڈز کی کمی کا شکار رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کبھی اتنے مضبوط نہ ہو سکیں کہ ملک کو خودکفیل بنا سکیں۔ یہ اشرافیہ جان بوجھ کر پاکستان کو ایک محتاج ریاست بنائے رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ ریاست کی محتاجی میں ہی ان کی ذات کی امارت کا راز پوشیدہ ہے۔ایک طرف غریب عوام پر پیٹرولیم لیوی کا کوڑا برسایا جا رہا ہے اور دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں بیٹھی اشرافیہ کے دوہرے معیار کا یہ عالم ہے کہ آج بھی ہزاروں سرکاری افسران، وزرا، ججز اور جرنیل لاکھوں لیٹر مفت پیٹرول ہر ماہ استعمال کر رہے ہیں۔ جس ملک میں ایک مزدور کی پوری دن کی دیہاڑی صرف اس لیے ختم ہو جاتی ہے کہ اسے اپنے موٹر سائیکل میں دو لیٹر پیٹرول ڈلوانا ہے، اسی ملک کی سڑکوں پر بیوروکریسی کی بڑی بڑی گاڑیاں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلنے والے مفت پیٹرول پر دندناتے ہوئے گزرتی ہیں۔ غریب کے پیٹرول پر ٹیکس لگا کر ریاست کے یہ نام نہاد خادم اپنے مفت ایندھن کا بندوبست کرتے ہیں۔ یہ وہ سنگین طبقاتی استحصال ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے اور غریب کے دل میں ریاست کے خلاف بغاوت اور نفرت کے بیج بو رہا ہے۔ جب ایک عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ اس کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کاٹ کر ظالم حکمران اپنے محلات اور اپنی بڑی گاڑیوں کے ٹینک فل کرواتے ہیں، تو اس کا ریاست سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جاتا ہے۔اس ساختیاتی، معاشی اور اخلاقی بحران کا واحد اور ناگزیر حل یہ ہے کہ ہمیں ایک انقلابی اور بے رحم پالیسی سازی کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ اگر ہم واقعتا اس معاشی غلامی سے نکلنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اشرافیہ اور سرکاری افسران کو ملنے والے مفت پیٹرول کے تمام کوٹے فوری طور پر منسوخ کرنے ہوں گے۔ پیٹرولیم لیوی جیسے ظالمانہ ان ڈائریکٹ ٹیکس کو ختم کر کے ملک میں امرا پر بھاری اور براہِ راست ٹیکس لگانا ہوگا۔ اس کے متوازی، ایک ہنگامی قومی توانائی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے جس کے تحت بیرونِ ملک امپورٹ مافیا کے پر کاٹ کر پاکستان کی اپنی زمین اور سمندر میں چھپے ہوئے تیل اور گیس کے خزانوں کی تلاش کے لیے جدید بین الاقوامی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے اور مقامی اداروں کو خودمختاری دی جائے۔ جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے اپنا ایندھن نکال کر اپنے کسان کے ٹریکٹر اور غریب کی سواری تک براہِ راست نہیں پہنچاتا، تب تک معاشی ترقی کے تمام دعوے محض ایک سراب، ایک سیاسی فریب اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات بدلے، قبل اس کے کہ مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کا غصہ ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لے جو اس پورے استحصالی نظام کو جلا کر راکھ کر دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed