اعزازات کے معیار پر بحث، پولیس اور فرنٹ لائن ورکرز کو نظرانداز کرنے پر اعتراض

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے 14 اگست 2026 کو مختلف شعبوں میں دیے گئے قومی اعزازات کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے لیے قربانیاں دینے والے اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے افراد کو نظرانداز کیا گیا۔نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے احمد کنڈی نے کہا کہ 14 اگست کو مختلف 21 کیٹیگریز میں نشانِ پاکستان، ہلالِ پاکستان، ستارہ پاکستان اور شجاعتِ پاکستان سمیت مختلف اعزازات دیے گئے۔ افسوس کی بات ہے کہ بڑی تعداد میں وفاقی وزرا اور بیوروکریٹس کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، تاہم سوال یہ ہے کہ قومی اعزازات دینے کا معیار کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ ملک کی خاطر جدوجہد اور قربانیاں دینے والے بہت سے افراد آج تک قومی اعزاز سے محروم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فرنٹ لائن پر ہے، لیکن قومی اعزازات حاصل کرنے والوں میں پولیس کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا۔احمد کنڈی نے کہا کہ انہیں اعزازات دینے پر اعتراض نہیں، احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی کی شرافت کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم اعزازات کے لیے واضح اور شفاف معیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں بھی بیوروکریٹس شامل تھے، تو صوبائی حکومت کا اس حوالے سے کیا طریقہ کار ہے؟انہوں نے کہا کہ جو افسران اپنے محکموں میں بہتری نہیں لاسکے، انہیں کس کارکردگی کی بنیاد پر اعزاز دیا جاتا ہے؟ نچلے درجے کے وہ ملازمین جو دہشت گردی کے خلاف عملی طور پر میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں قومی اعزاز کب ملے گا؟احمد کنڈی نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران فرائض انجام دینے والے ڈاکٹرز اور قراقرم میں مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے انجینئرز کو بھی قومی اعزازات میں یاد رکھا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شخصی طرزِ حکومت کے بجائے شفاف اور واضح معیار اپنایا جائے۔حکومتی رکن سجاد بارکوال نے کہا کہ اگر ملک میں کوئی واضح معیار ہوتا تو آج مخصوص نشستوں پر حکومتی ارکان نہ بیٹھے ہوتے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی تشکیل اور انتخابات سے متعلق سخت سیاسی اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں معیار کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی اعزازات سمیت ہر معاملے کے لیے واضح معیار ہونا چاہیے۔ سجاد بارکوال نے سوال اٹھایا کہ اعزازات دینے کا اختیار رکھنے والے افراد خود کس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔معاون خصوصی ملک عدیل اقبال نے کہا کہ ملک میں ایسا نظام چل رہا ہے کہ جو کام نہیں کررہا، اسے بھی تمغہ دے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے اعزازات کے لیے غیرمتعلقہ افراد کے نام تجویز کیے گئے ہیں تو اس پر بات ہورہی ہے اور فہرست پر نظرثانی کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed