طالبان مخالف گروپوں کی مزاحمت تیز’ بدخشاں اور تخار میں حالات کشیدہ

افغانستان میں طالبان مخالف گروپوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مسلح مزاحمت تیز کرنے کا دعوی کیا ہے، بدخشاں، تخار اور دیگر علاقوں میں مختلف حملوں کے دوران طالبان سکیورٹی اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔طالبان مخالف تنظیم افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں راکٹ حملوں کے نتیجے میں طالبان کے 9 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، یہ دعوی بھی کیا گی اہے کہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے گورنر آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک طالبان سکیورٹی پوسٹ پر راکٹ حملے کی کارروائی کی گئی۔ان حملوں اور جانی نقصان سے متعلق آزاد ذرائع سے فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔افغان مزاحمتی تحریک دی گرین ٹرینڈ کے مطابق صوبہ تخار کے ضلع چہ آب میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کا دعوی کیا گیا ہے۔طالبان مخالف گروپوں کا کہنا ہے کہ شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مختلف طالبان مخالف گروپ اپنی کارروائیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہیں، تو شمالی افغانستان میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، تاہم طالبان حکومت کے خلاف مسلح گروپوں کی کارروائیوں کے حجم، اثرات اور ان کے باہمی تعاون سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔افغانستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے مختلف مسلح گروپ وقتا فوقتا حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں، تاہم ہر دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed