عدالتی احکامات کی پامالی اور انتظامیہ کی جانب داری قابلِ مذمت ہے، بشپ سرفراز

ڈایوسیس اف پشاور کے بشپ ہیمپری سرفراز پیٹر نے سینیئر قانوندان معظم بٹ کے ہمراہ ہفتہ کے روز پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکم امتناع کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر پشاور کینٹ نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ رائیونڈ اور سیالکوٹ سے لائے گئے قبضہ مافیا گروپ جس کی قیادت نام نہاد کمسری بشپ کر رہے تھے کو ڈائیوسیس اف پشاورکے تالے توڑ کر بٹھا دیا گیا۔ بشپ ہیمفری سرفراز پیٹر نے کہا کہ ڈایوسیس اف پشاور کے دفاتر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے اور ریکارڈ مشین بھی اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر پشاور کینٹ اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروائی کے خلاف دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ زیادہ گزر چکا ہے لیکن ہماری درخواست پر اج بھی ایف ائی ار درج نہیں کی جا رہی۔ اس موقع پرسینیئر قانون دان معظم بٹ نے کہا کہ ائین پاکستان کے تحت کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کریں اور ایک نام نہاد قبضہ مافیا کو اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر اور پولیس تحفظ فراہم کرتے ہوئے ایک مذہبی عمارت میں داخل ہوں۔ معظم بٹ نے مزید کہا کہ اس تمام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور ازادانہ تحقیقات کی جائیں اور خیبر پختون خواہ  اور پشاور کے ڈائیورکو قانونی تحفظ فراہم کریں اور قبضہ مافیہ کو داخل کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔ پریس کانفرنس سے بشپ ہیمپری سرفراز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت شرم کی بات ہے اور افسوسناک مقام ہے کہ ایک مسیحی عبادت گاہ کی بے حرمتی کی گئی اور سینٹ جانز کیتھڈرل چرچ پشاور کے تالے بھی اینٹوں اور لوہے کے راڈو سے توڑے گئے جس سے مقدس عبادت گاہ کا تقدس شدید مجروح ہوا لیکن صوبائی حکومت اور پولیس اس انتہائی سنگین واقع پر موثر کاروائی کرتے دکھائی نہیں دے رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed