خیبرپختونخوا اسمبلی نے پروموشن آف ڈیجیٹل پیمنٹ بل 2026 منظور کرلیا

خیبرپختونخوا اسمبلی نے پروموشن آف ڈیجیٹل پیمنٹ بل 2026 منظور کرلیا۔ بل کی منظوری کے لیے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔بل کا بنیادی مقصد سرکاری و نجی مالیاتی لین دین کو ڈیجیٹل بنانا اور کاغذی کرنسی پر انحصار کم کرنا ہے۔ بل کے تحت بلوں اور مختلف فیسوں کی ادائیگی کو آسان بنانے، کرپشن اور کاغذی کارروائی میں کمی لانے جبکہ عوام کو گھر بیٹھے محفوظ مالیاتی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔دریں اثنا رکن صوبائی اسمبلی نیلوفر بابر نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال میں ایمرجنسی کی صورتحال سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی کے لیے صرف آٹھ بیڈ موجود ہیں، جبکہ چترال سے مریضوں کو دیگر اضلاع منتقل کرنا بھی دشوار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں بیڈز کی تعداد بڑھانے، اضافی عملہ تعینات کرنے اور طبی سہولیات بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔وزیر صحت خلیق الرحمن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ کیو لوئر چترال ترقیاتی اسکیم میں شامل ہے، جس پر جلد کام شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں مردوں کے لیے آٹھ جبکہ خواتین کے لیے چھ بیڈز مختص ہیں، جبکہ سی سی یو کی نئی عمارت میں منتقلی کے بعد مزید تین بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ چترال میں عوام کو مزید بہتر صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی فضل الہی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ہزارخوانی کی اپ گریڈیشن سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی منظوری مالی سال 2014-15 میں دی گئی تھی، تاہم گزشتہ دس سال سے منصوبہ نامکمل ہے، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ ڈی ایچ کیو ہزارخوانی کی اے ڈی پی اسکیم تاحال مکمل نہ ہونا ان کے لیے بھی باعثِ تعجب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ڈی ایچ کیو کو دوبارہ اے ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے اور یقین دہانی کرائی کہ رواں سال اسے ڈی ایف سی کیا جائے گا۔محرک رکن فضل الہی نے منصوبے میں تاخیر کی وجوہات جاننے کے لیے معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت کردی خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی رکن شفیع اللہ جان نے نکتہ اعتراض پر اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے والے پاکستانی ملک کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں اور اربوں روپے کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچتے ہیں تو بعض اوقات ویزے میں خرابی کا جواز بنا کر انہیں آف لوڈ کردیا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان اور اس کے بچوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ معاملہ سفارتی سطح پر متعلقہ ممالک کے ساتھ اٹھائے اور اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل تلاش کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed