تلی گاؤں کے سکول میں آج مشران اور نوجوانوں کا اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں گاؤں کے تمام مشران، نوجوانوں اور عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے میں علاقے کی موجودہ صورتحال، امن و امان اور گاؤں کے عوام کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔جرگے کے دوران گاؤں کے مختلف مشران نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عوام کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شرکاء نے باہمی تعاون اور گاؤں کی سطح پر نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ تلی گاؤں میں رات کے وقت پہرے کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں گے، جہاں گاؤں کے لوگ باری باری رات کے اوقات میں پہرہ دیں گے۔ اس مقصد کے لیے مقامی افراد کی ڈیوٹیاں مقرر کی جائیں گی تاکہ گاؤں کی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ تلی کے تمام دکاندار دن کے وقت اپنی دکانوں میں اپنی حفاظت اور گاؤں کے تحفظ کے لیے اسلحہ ضرور رکھیں گے۔جرگے میں رات کے اوقات میں باہر سے آنے والے افراد کی نقل و حرکت کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔ شرکاء کے مطابق رات 10 بجے کے بعد باہر کے گاؤں کے افراد کا تلی میں داخلہ بند ہوگا۔جرگے میں آس پاس کے گاؤں کے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ رات 10 بجے کے بعد تلی آنے سے گریز کریں۔ تاہم کسی کو انتہائی ضروری کام کے سلسلے میں تلی آنا ہو تو وہ پہلے گاؤں کے کسی ذمہ دار شخص سے رابطہ کرے اور اپنی آمد سے آگاہ کرے۔جرگے میں واضح کیا گیا کہ اگر کوئی شخص مذکورہ ہدایات کے بغیر رات 10 بجے کے بعد گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہوگی۔آخر میں مشران اور نوجوانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گاؤں کے امن و امان، عوام کے تحفظ اور باہمی اتحاد کے لیے مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کیا جائے







