خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات موخر، فوری طور پر الیکشن کرانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو 3 ہفتے کی مہلت دے دی اور کیس کی سماعت بھی تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ممبر سندھ کی سربراہی میں تین رکنی الیکشن کمیشن نے کی، جس میں چیف سیکریٹری اور سیکریٹری بلدیات خیبرپختونخوا بھی پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے درخواست کی کہ پورے صوبے میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔الیکشن کمیشن کے سپیشل سیکریٹری کے مطابق صوبائی حکومت نے اس مقصد کے لیے مزید 3 ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی نے ریمارکس دیے کہ اگر پورے صوبے میں انتخابات ایک ساتھ کرانے ہیں، تو نئی حلقہ بندیاں بھی کرنا ہوں گی۔سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بھی رائے دی کہ نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی۔چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ویلج کونسل سے متعلق قانون میں تبدیلی کی گئی ہے جبکہ پرانے قانون کو تبدیل کرنے کی سمری اس وقت صوبائی کابینہ کے پاس ہے۔ان کے مطابق کابینہ کو الیکشن کمیشن کی ہدایات سے متعلق بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری نے بتایا کہ قانون میں ویلج کونسل کی آبادی کی تعداد بڑھائی گئی ہے اور نئے اضلاع کے قیام کی وجہ سے بھی حلقہ بندیاں کرنا ضروری ہیں۔چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کے مطابق نئی حلقہ بندیاں صرف چند اضلاع تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ پورے صوبے کے اضلاع پر قانون کا اطلاق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت حلقہ بندیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔چیف سیکریٹری نے مزید بتایا کہ بعض اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے بھی مشاورت کرنا ضروری ہے۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے سپیشل سیکریٹری نے حلقہ بندیوں سے متعلق صوبائی حکومت سے مشاورت کی بنیاد پر قانون میں ترمیم پر اعتراض بھی اٹھایا۔دوسری جانب چیف سیکریٹری نے مقف اختیار کیا کہ بلدیاتی قانون میں تبدیلی کی جارہی ہے اور حکومت کو اس عمل کے لیے مزید وقت درکار ہے۔بعدازاں الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو 3 ہفتوں کا وقت دے دیا اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔







