حکومت پاکستان کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27کے دوران ملک کی معاشی بحالی کا عمل جاری رہے گا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں مجموعی معاشی بنیادوں میں بہتری، مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور اصلاحات کا تسلسل شامل ہیں، تاہم عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی معاشی منظرنامے کے لیے اہم خطرات برقرار ہیں۔وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و مستقبل کی صورتحال رپورٹ (جولائی 2026) کے مطابق پاکستان گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد مالی سال 2026-27 میں پہلے سے زیادہ مضبوط معاشی بنیادوں کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ رپورٹ میں مالیاتی کارکردگی میں بہتری، مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، آئی ٹی برآمدات کی ریکارڈ سطح اور بیرونی شعبے کے مجموعی طور پر متوازن رہنے کو معاشی بحالی کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق زرعی سرگرمیاں مضبوط رہنے کی توقع ہے، جسے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اضافہ، مشینی کاشتکاری میں پیش رفت اور زرعی مداخل کی بہتر دستیابی سے مدد ملے گی۔ صنعتی کارکردگی میں بھی بہتری کی توقع ہے کیونکہ مالی حالات میں آسانی، کاروباری اعتماد میں اضافہ اور ملکی طلب میں بہتری صنعتی پیداوار کو سہارا فراہم کرے گی۔دستاویز کے مطابق خدمات کا شعبہ بھی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں مسلسل اضافہ، مالیاتی خدمات میں توسیع اور ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری سے خدمات کے شعبے کی ترقی کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ جاری ساختی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری رواں مالی سال کے دوران معاشی رفتار کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی اور زری پالیسیوں میں مربوط اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے معاشی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ بہتر مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور محتاط قرضہ انتظام نے بھی مجموعی معاشی استحکام کو مضبوط کیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ مالیاتی شعبے کی اصلاحات سے سرمایہ کاری اور سرمایہ منڈی کی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ رواں سال متعارف کرائے گئے اقدامات میں انویسٹ پاک کے نام سے ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم کا اجرا، جاز کیش کے ذریعے عام سرمایہ کاروں کو سرکاری ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی سہولت اور مستقبل میں حکومتی بانڈز کے اجرا کے لیے عالمی بینکاری اتحادوں کی تقرری شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانا اور پاکستان کی مالیاتی منڈیوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔تاہم دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیرونی چیلنجز معاشی منظرنامے کے لئے بدستور خطرہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھا، بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ رکاوٹیں اور زراعت کو متاثر کرنے والے موسمیاتی خطرات مالی سال 2026-27 کے دوران ملکی معاشی کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے، جس کی بڑی وجہ مضبوط معاشی بنیادیں اور ساختی اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد ہے۔ حکومت کے مطابق معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کی مزاحمت مزید بہتر بنانے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا، بیرونی مالیاتی حفاظتی ذخائر مضبوط کرنا اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔







