تین اگست کو چترال میں آنے والا سیلاب جہاںاپنے ساتھ چھوٹے بڑے پل لے گیا وہیں پر اس سیلاب نے چترال کا مکمل انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا ہے اور ساتھ تین افراد اپنی زندگیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے چترال کا پاکستان سے تقریبا رابطہ ختم ہو گیا ہے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں ایریگیشن چینل مکمل طور پر ڈیمج ہو گئے دوسری طرح پٹرول پمپس اور روڈ بھی سیلاب کا شکار بنے۔ لیکن نہ تو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو یہ تباہی نظر ائی اور نہ مرکزی حکومت اس طرف توجہ دینے کو تیار ہے اور حکمرانوں نے چترالی عوام سے مکمل لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی چترال کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر پاپولیشن سلیم خان نے جمعہ کے روز پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں تین اگست کے سیلاب کی وجہ سے تباہی کو ائے ہوئے تین روز ہو گئے ہیں۔ لیکن چترالیوں کی تباہی پر خیبر پختون خوا کے وزیراعلی سہیل افریدی اور کسی وزیر نے ایک عام بیان بھی جاری نہیں کیا پوچھنا تو دور کی بات مرکزی حکومت بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جس کے پاس افات کے لیے لا تعداد فنڈز موجود ہیں وہ بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت چترال کے حالات یہ ہیں کہ میںن شاہراہیں اور ویلیاں سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں دور دراز علاقوں کے لوگ چترال سٹی تک رسائی کے لیے پیدل راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو 6 10 گھنٹوں میں چترال سٹی پہنچتے ہیں ۔ چترال سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم خان نے کہا کہ ہم انتہائی بے بسی کی حالت میں اج یہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں کیونکہ نہ تو صوبائی حکومت اور نہ مرکزی حکومت نے چترالیوں کی خیر عافیت پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران چترال کہ عوام سے بالکل لاتعلق ہو کر بیٹھ گئے ہیں لوگوں کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے انہوں نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد چترال میں ایمرجنسی ڈکلیئر کی جائے اور صوبائی اور مرکزی حکومت جلد از جلد اسسمنٹ کر کے چترال کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے مزید کہا کہ 2022 کے سیلاب میں صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ 53 کروڑ روپے کے فنڈ اج تک چترال نہیں پہنچ سکے اور وہ راستے میں ہی غائب ہو گئے ہیں لہذا مکمل شفافیت کے ساتھ حکومت فنڈ جاری کرے اور چترال میں لگائے۔ سلیم خان نے خیبر پختونخوا کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے کردار پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے چترال کے لیے صوبائی اسمبلی میں کوئی موثر اواز نہیں اٹھائی۔ اور جو اواز اٹھائی بھی تو ان کا کیس ایک ڈی سی کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی اور مرکزی حکومت نے چترال میں ایمرجنسی نافذ نہ کی اور امدادی کاروائیاں شروع نہ کی تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔







