لندن۔رپورٹ ،سید عاصم علی قادری
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں منعقد ہونے والے 23ویں کامن ویلتھ گیمز 2026 ایک رنگا رنگ اختتامی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ ولیم نے کھیلوں کے اختتام کا اعلان کیا، تقریب میں دولتِ مشترکہ کے 74 ممالک اور خطوں کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ کی ثقافت، موسیقی اور روایتی فنون کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ اختتام پر کامن ویلتھ گیمز کا پرچم اگلے میزبان ملک بھارت کے حوالے کیا گیا، جہاں 2030 کے کامن ویلتھ گیمز احمد آباد، گجرات میں منعقد ہوں گے۔تمغوں کی دوڑ میں آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انگلینڈ دوسرے، کینیڈا تیسرے، بھارت چوتھے جبکہ اسکاٹ لینڈ پانچویں نمبر پر رہا۔

آسٹریلیا نے مجموعی طور 171 تمغے حاصل کئے۔ 70 طلائی، 45 چاندی اور 56 کانسی تمغے جیت کر اپنی برتری برقرار رکھی۔اختتامی تقریب میں اسکاٹ لینڈ کے معروف موسیقاروں اور فنکاروں نے اپنی پرفارمنس پیش کی، جبکہ آتش بازی کے شاندار مظاہرے نے کھیلوں کے اس عظیم میلے کا یادگار اختتام کیا۔کامن ویلتھ گیمز 2026 میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز تیراک Chad le Clos کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ کے سب سے زیادہ تمغے جیتنے والے کھلاڑی بن گئے، ایک اور تاریخی ریکارڈ 76 سالہ لوئز ہوسکنز نے اپنے نام کیا، جو دولتِ مشترکہ گیمز کی تاریخ کی معمر ترین گولڈ میڈلسٹ بن گئیں۔ انہوں نے 76 سال اور 173 دن کی عمر میں اپنی ساتھی سرینا بونیل کے ساتھ پیرا لان بولز خواتین کے جوڑوں (Women’s Pairs) کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر یہ منفرد اعزاز حاصل کیا۔اب دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کی نظریں 2030 کے کامن ویلتھ گیمز پر مرکوز ہیں جن کی میزبانی بھارت کا شہر احمد آباد کرے گا یہ مقابلے کامن ویلتھ گیمز کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہوں گے








