معروف ماہرِ معاشیات اسٹیو ہینکے نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جلد ہی لاکھوں ملازمتیں ختم کر دے گی۔اسٹیو ہینکے نے اپنے تازہ بیان میں کہاکہ مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر چلانے کے لیے پانی، بجلی اور مہنگے ڈیٹا مراکز سمیت بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، اس لیے یہ انسانی افرادی قوت کا سستا متبادل نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اسی وقت ملازمین کو تبدیل کریں گی جب مصنوعی ذہانت کی لاگت انسانوں کو تنخواہیں دینے سے کم ہو گی لیکن موجودہ حالات میں ایسا نہیں ہو سکتا۔اسٹیو ہینکے کے مطابق مائیکرو سافٹ، الفا بیٹ، ایمیزون اور میٹا نے رواں سال تقریبا 700 ارب ڈالرز کے سرمایہ جاتی اخراجات کا اعلان کیا ہے جو 2027 تک بڑھ کر 1 کھرب ڈالرز تک پہنچ سکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ انتہائی مہنگا ہے۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والا اور ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیے گئے نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے ترقیاتی اہداف حاصل نہ کر سکیں تو مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سست پڑ سکتی ہے۔دوسری جانب ایلون مسک کا موقف ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی لاگت تقریبا صفر ہو جائے گی، اسی لیے انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ لوگوں کو ریٹائرمنٹ کے لیے بچت کی ضرورت نہیں ہو گی۔







