پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس صلاح الدین اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ) نے شدید بیماریوں میں مبتلا افغان شہریوں اور ان کے اہلخانہ کو 30 روز کے لیے گرفتار یا افغانستان ڈیپورٹ کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے جگر کے کینسر اور دماغی فالج میں مبتلا مریضوں کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اس دوران میڈیکل ویزا یا وزارتِ داخلہ سے قیام میں توسیع کے لیے رجوع کریں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ پی او آر کارڈز غیر موثر ہونے کے باوجود متعلقہ فورم سے خصوصی اجازت لی جا سکتی ہے۔







