وفاقی و صوبائی محکموں کی خراب کارکردگی اور گوڈ گورننس سے متعلق رٹ پٹیشن پر وفاقی حکومت نے 483صفحات پر مشتمل تحریری رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرادی ،پاکستان آف گورنمنٹ انیشیٹیو سپیشل اینڈ ڈیویلپمنٹ پلاننگ منسٹری نے قومی مفادات کے پیش نظر جامع رپورٹ جمع کی ہے جس میں 5 سالہ منصوبہ بندی کے تحت انسٹیٹیوشنل ریفارمز اینڈ گورننس ، عوامی خدمات کی فراہمی وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے تاہم صوبائی حکومت کیجانب سے تاحال کیس میں جواب جمع نہیں ہوسکااورچیف سیکرٹری سمیت دیگر صوبائی سیکرٹریز نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید مہلت مانگ لی۔ محمد حمدان ایڈوکیٹ نے اگست 2025 میں رٹ دائر کی جس میں ہنگامی بنیادوں پر انتظامیہ ، مقننہ و عدلیہ سمیت تمام وفاقی و صوبائی محکموں کوملک کے نظام حکومت اور انفرسٹرکچر/ڈھانچے کو بہتربنانے اور بنیادی انسانی حقوق سمیت قومی پالیسیوں کا تحفظ یقینی بنانے کے احکامات جاری کرنےکی استدعاکی گئی ہے۔درخواست گزار وکیل کے مطابق پاکستان خطے کے ایک اہم کردار کے طور پر ابھر رہاہے جہاں بہترین نظام حکومت اور جدید طرز کے ایک خودمختار معاشی و ترقی یافتہ سائنسی ٹیکنالوجیکل نظام کی ضرورت ہے۔مملکت خدادادمیں عدل وانصاف، قانون کی حکمرانی ،بنیادی حقوق کا تحفظ، قومی مفادات و پالیسیوں اور لوگوں کو بہتر ماحول فراہمی کیلئے گڈ گورننس اور انفراسٹرکچر نہایت ضروری ہے۔محمد حمدان ایڈوکیٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ سمیت عسکری قیادت نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں ملک میں خراب گورننس کوتسلیم کیا ہے جس کیوجہ سے سیکورٹی سمیت انتظامی ودیگرمسائل سامنے آرہے ہیں خصوصا صوبے میں شدید لاقانونیت اور بدامنی ہے،آئین کے مختلف آرٹیکلز کے تحت شہریوں کے جان ومال کا تحفظ،انہیں بہترماحول اورروزگار فراہم کرنے کےساتھ صوبائی حکومت اور متعلقہ سیاسی عہدیداروں کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کاانفرسٹرکچر اور بہترین نظام حکومت کیلئے قومی و صوبائی سطح پر پالیسیاں بنائیں ۔عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈوکیٹ جنرل کے پی سمیت متعلقہ اداروں کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کاحکم دیا تھا تاہم صوبائی حکومت نے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت مانگی ہے ، کیس پر مزیدسماعت اگلے ماہ ہوگی







