شانگلہ ‘ 3 کمسن بچیاں دریائے سندھ میں ڈوب کر جاں بحق

شانگلہ جھٹکول کے مقام پر دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے تین کمسن بچیاں ڈوب گئیں،بچیوں کی ریکوری کیلئے سرچ آپریشن جاری ہیں۔ شانگلہ کے علاقے جھٹکول کے مقام پر دریائے سندھ (آباسین)میں افسوسناک واقعے میں شانگلہ کے گاں جھٹکول سے تعلق رکھنے والی تین بچیاں نہاتے ہوئے دریا میں ڈوب گئیں۔ ریسکیو 1122 شانگلہ اور ریسکیو 1122 تورغر کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور بچیوں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ تاہم رات کی تاریکی اور محدود حد نگاہ کے باعث آپریشن عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا جبکہ اتوار کے صبح دوبارہ سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ڈوبنے والی بچیوں کی عمریں بالترتیب تقریبا 10سے15 سال ہیں۔ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہیں کہ وہ دریائوں، ندی نالوں، ڈیموں اور گہرے پانی کے مقامات پر نہانے یا تفریح کے لیے جانے سے مکمل گریز کریں خصوصا بچوں کو کسی بھی صورت تنہا پانی کے قریب نہ جانے دیں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند اور بہا انتہائی تیز ہے جس کے باعث معمولی سی غفلت بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔واضح رہے کہ ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار عوام کو دریاں اور سیلابی ریلوں سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں تاہم اس کے باوجود بعض شہری احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرتے ہوئے خطرناک مقامات پر نہانے اور تفریح کے لیے پہنچ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں آئے روز المناک حادثات رونما ہو رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی دریائے سندھ اور دیگر آبی مقامات پر پیش آنے والے مختلف حادثات میں سات سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں بعض افراد کی لاشیں تاحال برآمد نہیں ہو سکیں جبکہ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن مختلف اوقات میں جاری رکھا گیا۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک آبی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں اور شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مثر آگاہی مہم چلائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed