کامن ویلتھ گیمز کا عظیم الشان میلہ ایک بار پھر برطانیہ میں سج گیا

 

لندن:رپورٹ،سید عا صم علی قادری

دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کی نظریں ایک مرتبہ پھر برطانیہ پر مرکوز ہو رہی ہیں، جہاں اسکاٹ لینڈ کا تاریخی شہرگلاسکو کامن ویلتھ گیمز 2026 کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دولتِ مشترکہ کے ممالک کے درمیان دوستی، بھائی چارے، مقابلے اور کھیلوں کے اعلی جذبے کی علامت سمجھے جانے والے یہ کھیل 23 جولائی سے 2 اگست 2026 تک جاری رہیں گے۔ تقریبا گیارہ دنوں پر محیط اس عظیم الشان ایونٹ میں دنیا کے مختلف خطوں سے ہزاروں ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ تقریبا ایک صدی پر محیط ہے۔ ان مقابلوں کا پہلا انعقاد 1930 میں کینیڈا کے شہر ہیملٹن میں ہوا تھا، جہاں انہیں برٹش ایمپائر گیمز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کھیلوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور یہ دولتِ مشترکہ کے تمام رکن ممالک اور خطوں کے درمیان ایک بڑے عالمی اسپورٹس فیسٹیول کی صورت اختیار کر گئے۔ 2022 میں برمنگھم میں منعقد ہونے والے مقابلوں تک 22 ایڈیشن مکمل ہو چکے تھے، جبکہ گلزگو 2026 ان کھیلوں کا 23واں ایڈیشن ہوگا۔گلاسگو کے لیے یہ اعزاز کوئی نیا نہیں۔ اس سے قبل 2014 میں بھی یہی شہر کامن ویلتھ گیمز کی کامیاب میزبانی کر چکا ہے، جسے جدید دور کے بہترین کھیلوں کے مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی منتظمین نے فیصلہ کیا ہے کہ زیادہ تر مقابلے انہی عالمی معیار کی موجودہ سہولیات میں منعقد کیے جائیں گے جو پہلے سے موجود ہیں، تاکہ اخراجات کم رہیں اور ماحول دوست انتظامات کو فروغ دیا جا سکے۔گلاسگو 2026 میں 74 ممالک اور خطے شرکت کریں گے، جبکہ تقریبا 3,000 ایتھلیٹس میدان میں اتریں گے۔ ان میں قابلِ ذکر تعداد پیرا ایتھلیٹس کی بھی ہوگی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کامن ویلتھ گیمز مساوات، شمولیت اور ہر فرد کو مواقع فراہم کرنے کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ کھیلوں کے یہ مقابلے نہ صرف تمغوں کی جنگ ہوتے ہیں بلکہ مختلف قوموں اور ثقافتوں کے درمیان قربت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔اس بار مقابلوں کا پروگرام مختصر مگر نہایت دلچسپ رکھا گیا ہے۔ ایتھلیٹکس، تیراکی، پیرا تیراکی، ڈائیونگ، باکسنگ، جوڈو، نیٹ بال، ویٹ لفٹنگ، پیرا پاور لفٹنگ، آرٹسٹک جمناسٹکس، ٹریک سائیکلنگ، پیرا ٹریک سائیکلنگ، تھری ایکس تھری باسکٹ بال، وہیل چیئر باسکٹ بال، بالز اور پیرا بالز جیسے کھیل شائقین کو بھرپور تفریح فراہم کریں گے۔

مجموعی طور پر 215 میڈل ایونٹس منعقد ہوں گے جن میں دنیا کے بہترین کھلاڑی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔مقابلوں کے لیے گلزگو کے متعدد مشہور اسٹیڈیم اور اسپورٹس سینٹرز منتخب کیے گئے ہیں۔ اسکاٹسٹون اسٹیڈیم ایتھلیٹکس کی میزبانی کرے گا، جبکہ ٹول کراس انٹرنیشنل سوئمنگ سینٹر میں تیراکی اور ڈائیونگ کے مقابلے ہوں گے۔ اسی طرح سر کرس ہوئی ویلوڈروم اور کامن ویلتھ ایرینا سائیکلنگ اور باسکٹ بال کے مقابلوں کا مرکز ہوں گے۔ اسکاٹش ایونٹ کیمپس (SEC)، جس میں OVO Hydro، SEC Armadillo اور SEC Centre شامل ہیں، مختلف انڈور کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔ افتتاحی اور اختتامی تقریبات بھی اسی کمپلیکس میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔کامن ویلتھ گیمز میں کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے دیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اولمپکس کی طرح مرکزی منتظمین کی جانب سے عمومی طور پر کوئی یکساں نقد انعام مقرر نہیں کیا جاتا، تاہم بہت سے ممالک اپنے قومی ہیروز کو نقد انعامات، اعزازات، سرکاری مراعات اور خصوصی وظائف سے نوازتے ہیں۔ اسی لیے ہر ایتھلیٹ کے لیے کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیتنا ایک غیر معمولی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔اگر ان کھیلوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو آسٹریلیا اور انگلینڈ سب سے زیادہ کامیاب ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ کینیڈا، نیوزی لینڈ، اسکاٹ لینڈ اور بھارت نے بھی مختلف ادوار میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خاص طور پر بھارت نے ویٹ لفٹنگ، بیڈمنٹن، ریسلنگ اور دیگر کھیلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ آسٹریلیا نے مجموعی تمغوں کی تعداد میں طویل عرصے تک اپنی برتری برقرار رکھی۔برطانیہ کا کامن ویلتھ گیمز سے تعلق بہت گہرا ہے۔ لندن 1934، کارڈف 1958، ایڈنبرا 1970 اور 1986، مانچسٹر 2002، گلزگو 2014، برمنگھم 2022 اور اب گلزگو 2026 ان کھیلوں کی میزبانی کر چکے یا کرنے جا رہے ہیں۔ اس طرح برطانیہ مجموعی طور پر آٹھویں مرتبہ کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کا اعزاز حاصل کرے گا، جبکہ اسکاٹ لینڈ چوتھی مرتبہ یہ ذمہ داری نبھائے گا۔گلزگو 2026 کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ مقابلے شاہ چارلس سوم کے دورِ حکومت میں منعقد ہونے والے پہلے کامن ویلتھ گیمز ہوں گے۔کامن ویلیتھ گیمز کی افتتاحی تقریب گلاسگو میں منعقد ہوئ۔ اس تقریب میں کنگ چارلس،ملکہ کومیلا اور برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم مہمان خصوصی تھے۔کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب میں ارشد ندیم مارچ پاسٹ کے دوران پاکسانی دستے کی قیادت کی۔ پاکستان کے اکیس اتھلیٹس چھ کھیلوں اتھلیٹکس، سوئمنگ، جوڈو، جمناسٹک، لان بال اور جمناسٹک میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔برمنگھم گیمزمیں پاکستان نے دو گولڈ، تین سلور اور دو برانز میڈل جیتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed