تحریر: شیر عالم شنواری
پشتونخوا کے زرخیز اور معتبر ادبی و صحافتی افق پر راشد خٹک ایک ایسی کثیر الجہات، باوقار اور تابندہ شخصیت کا نام ہے، جو کسی بھی مصنوعی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ بیک وقت ایک قادر الکلام شاعر، فکر انگیز نثر نگار، نکتہ رس مترجم، نبض شناس صحافی اور متحرک تنظیمی رہنما ہیں۔ راشد خٹک روزنامہ ڈان (Dawn) کے ساتھ بحیثیت سینئر ایڈیٹر وابستہ ہیں، جبکہ وہ ’دیوا‘ (Diva) اور مشعل ریڈیو کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ انہیں پشتو، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں پر کامل عبور حاصل ہے، جس نے ان کی تخلیقی و تحریری صلاحیتوں کو منفرد گہرائی اور وسعت بخشے۔
ابتدائی زندگی اور علمی پس منظر
علم و ادب کے اس شیدائی نے 1 اپریل 1973ء کو ضلع کرک کے تاریخی علاقے ’لٹکائی‘ میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مسکن میں حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پشاور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے 2013ء میں پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے (MA) کی ڈگری حاصل کی۔ اس علمی پس منظر نے ان کے فکری افق کو عالمی سطح پر کشادہ کیا اور انہیں عالمی و علاقائی ادب کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کی صلاحیت دی۔
علمی و ادبی تصانیف اور ترجمہ نگاری
راشد خٹک کی ادبی خدمات کا محور ان کی باوقار تصانیف، فکر انگیز شاعری اور معرکہ الآرا تراجم ہیں۔ ان کا قلمی سفر گہرے تنوع اور علمی عمق کا شاہکار نمونہ ہے۔ ان کی اہم مطبوعہ و زیرِ طبع تخلیقات درج ذیل ہیں:
ففٹی ملین شارٹ اسٹوریز (Fifty Million Short Stories – مترجم): عالمی شہرت یافتہ انگریزی مختصر افسانوں اور کہانیوں کا پشتو زبان میں ایک شاہکار ترجمہ، جس نے پشتو خوانندوں کو بین الاقوامی کلاسیکی ادب کی خوشبو اور جدید اسلوب سے روشناس کرایا۔
باغچہ (منظوم مجموعہ): ان کی جدید انسانی احساسات اور فکر انگیز خیالات سے لبریز منظوم شاعری کا دلکش مجموعہ، جس میں زندگی کی کڑوی حقیقتوں اور خوبصورت جذبوں کو بڑی فنی مہارت سے اشعار کا روپ دیا گیا ہے۔
انسان او قبائل (مترجم): پختون قبائلی زندگی، ان کے روایتی سماجی ڈھانچے، منفرد تاریخ اور قدیم کلچر کے گہرے پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی اہم کتاب کا نہایت سلیس اور اثر انگیز پشتو ترجمہ۔
خوشحال د زمانې (ادبی و فکری جائزہ): بابائے پشتو خوشحال خان خٹک کے فکری و ادبی قد و قامت اور ان کے آفاقی پیغام پر ایک عمیق اور تحقیقی جائزہ۔
صحافتی جلال اور ادبی و تنظیمی خدمات
صحافت کے میدان میں بھی راشد خٹک کی خدمات بے حد نمایاں ہیں۔ وہ روزنامہ ڈان، مشعل ریڈیو اور دیوا جیسے معتبر اداروں میں صحافتی سفر کے دوران مسلسل متحرک رہے ہیں۔ ان کے تجزیے اور کالم خطے کے سیاسی، سماجی اور کلتوری تشخص کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں، تنظیمی اور ثقافتی میدان میں انہوں نے پشاور اور دیگر اضلاع میں متعدد ادبی سیمینارز، ورکشاپس اور مشاعروں کا انعقاد کر کے نئی نسل میں کتب بینی اور ادبی پاسداری کا نیا جذبہ بیدار کیا ہے۔
حاصلِ کلام
راشد خٹک محض ایک روایتی قلمکار نہیں، بلکہ پشتون روایت، تعلیمی بیداری اور قلمی پاسداری کے ایک معتبر علمبردار ہیں۔ ان کی سحر انگیز تحریروں میں خلوصِ نیت اور بیداریِ فکر کی وہ شمع روشن ہے جو پڑھنے والے کے ذہن کو جلا بخشتی ہے۔ ان کی ادبی و صحافتی خدمات ہمارے معاصر منظر نامے کے لیے ایک انتہائی قیمتی اور قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔







