چینی ریاضی دانوں نے فیلڈز میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی

 

رپورٹ :سید عا صم علی قادری (لندن)

ریاضی کی دنیا کا سب سے باوقار اعزاز فیلڈز میڈل 2026 میں دو چینی ریاضی دانوں یو ڈینگ اور ہونگ وانگ کے نام رہا، جس کے بعد چین نے عالمی ریاضی کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا۔ بین الاقوامی ریاضیاتی یونین کی جانب سے فلاڈیلفیا میں منعقدہ انٹرنیشنل کانگریس آف میتھمیٹیشنز کی افتتاحی تقریب میں ان نامور سائنس دانوں کو اس عظیم اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ دو چینی شہری ایک ہی سال میں فیلڈز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دونوں ریاضی دانوں نے اپنی ابتدائی اعلی تعلیم پیکنگ یونیورسٹی سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تحقیق کے میدان میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس تاریخی کامیابی کو چین میں ریاضی کی تعلیم اور تحقیق کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
پروفیسر یو ڈینگ کو جزوی تفاضلی مساوات (Partial Differential Equations) اور گیسوں کی حرکت سے متعلق انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کے حل پر فیلڈز میڈل دیا گیا، جبکہ ہونگ وانگ کو مشہور کاکیا (Kakeya) مسئلے کے تین جہتی حل پر یہ اعزاز ملا۔ ہونگ وانگ فیلڈز میڈل حاصل کرنے والی تاریخ کی صرف تیسری خاتون بھی بن گئی ہیں، جسے خواتین کی سائنسی کامیابیوں کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈز میڈل کو دنیا بھر میں ریاضی کا سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے اور اسے اکثر "ریاضی کا نوبیل انعام” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اعزاز ہر چار سال بعد چالیس سال سے کم عمر ایسے ریاضی دانوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے علمِ ریاضی میں غیرمعمولی خدمات انجام دی ہوں۔ ماہرین کے مطابق چینی ریاضی دانوں کی یہ تاریخی کامیابی نہ صرف چین بلکہ پورے ایشیا کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی سطح پر ریاضی کے میدان میں ایشیائی ممالک کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed