پیٹرول پمپوں کی ہڑتال، توانائی پالیسی میں استحکام کی ضرورت

 

ملک بھر میں پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان یومیہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور ڈیلرز کے منافع کے مارجن پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیدا ہونے والی یہ صورتحال صرف ایک کاروباری تنازع نہیں بلکہ قومی معیشت، رسد کے نظام اور عوامی زندگی سے جڑا اہم مسئلہ ہے۔

پیٹرول پمپوں کی بندش کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، ہنگامی طبی خدمات اور روزمرہ کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ اگر ہڑتال طویل ہو جائے تو نہ صرف اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہوگی بلکہ ضروری خدمات بھی مشکلات سے دوچار ہو جائیں گی۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث یومیہ قیمتوں کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی قیمتیں عالمی رجحانات سے ہم آہنگ رہیں۔ دوسری جانب پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ موجودہ مارجن میں وہ اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتے اور یومیہ قیمتوں کی تبدیلی سے کاروباری مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دونوں مؤقف اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں، لیکن مسئلے کا حل تصادم نہیں بلکہ بامعنی مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان میں توانائی کے شعبے کی پالیسی پہلے ہی کئی چیلنجز کا شکار ہے۔ قیمتوں میں بار بار ردوبدل، ٹیکسوں اور لیوی میں اضافے، درآمدی انحصار اور روپے کی قدر میں کمی نے اس شعبے کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگر اس کے ساتھ سپلائی چین بھی متاثر ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف وقتی فیصلوں کے بجائے ایک ایسی جامع پالیسی ترتیب دے جو عوام، ڈیلرز اور قومی معیشت تینوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ پیٹرول پمپ مالکان کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے، ان کے کاروباری اخراجات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور ایسا مارجن مقرر کیا جائے جو نہ عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالے اور نہ ہی ڈیلرز کو مالی نقصان پہنچائے۔

اسی طرح اگر یومیہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرانا مقصود ہے تو اس کے لیے شفاف طریقہ کار، مؤثر ڈیجیٹل نظام اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت ناگزیر ہے۔ اچانک نافذ کیے گئے فیصلے اکثر مزاحمت کو جنم دیتے ہیں، جبکہ اعتماد سازی سے اصلاحات کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بار بار کی ہڑتالیں اور احتجاج ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے تمام فریقوں کو قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

حکومت اور پیٹرولیم شعبے کے نمائندوں کو چاہیے کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھیں اور جلد از جلد ایسا قابلِ عمل فارمولا طے کریں جس سے ہڑتال ختم ہو، ایندھن کی فراہمی بحال رہے اور عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ موجودہ معاشی حالات میں کسی بھی نئے بحران کی گنجائش نہیں۔ دانشمندانہ قیادت، باہمی اعتماد اور مستقل پالیسی ہی اس مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed