چائنا ونڈو، پشاور کے دل میں ایک ننھا سا چین

تحریر: عائشہ عالم

پشاور، جسے صدیوں سے "شہرِ پھول” کہا جاتا ہے، اپنی قدیم تاریخ، رنگا رنگ ثقافت، مہمان نوازی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ہمیشہ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور افغانستان کے درمیان ایک تاریخی دروازے کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ اس شہر کی تہذیبی شناخت اور ثقافتی ورثہ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں، مگر شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پشاور کی انہی مصروف گلیوں کے درمیان ایک ایسا منفرد ادارہ بھی موجود ہے جو پاکستان میں چین کی تہذیب، ثقافت اور دوستی کا حقیقی ترجمان ہے۔ اس ادارے کا نام چائنا ونڈو ہے، جسے بلا مبالغہ "پشاور کے دل میں ایک ننھا سا چین”کہا جا سکتا ہے۔میرا چائنا ونڈو کا دورہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا۔ اگرچہ میں گزشتہ ایک سال سے اس کے ڈائریکٹر جناب امجد عزیز ملک سے واقف تھی اور محترمہ ناز پروین کی خصوصا ًچین پر مبنی سفری اور ادبی تحریروں سے بھی آشنائی رکھتی تھی، لیکن مجھے اس غیر معمولی ادارے کی وسعت، خوبصورتی اور اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔

وہاں پہنچ کر جو کچھ دیکھا، اس نے میری تمام توقعات سے بڑھ کر مجھے متاثر کیا۔پشاور کی مصروف شاہراہوں اور گلیوں سے گزرتے ہوئے جب میں چائنا ونڈو پہنچی تو داخل ہوتے ہی پوری ٹیم نے انتہائی گرمجوشی، خلوص اور محبت کے ساتھ میرا استقبال کیا۔ ان کی مہمان نوازی نے پہلی ہی ملاقات میں پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کی حقیقی روح کو نمایاں کر دیا۔اس خوبصورت سفر کا آغاز داخلی دروازے پر قائم دیوارِ چین (گریٹ وال آف چائنا)کی شاندار نقل سے ہوا، جس نے لمحہ بھر میں مجھے چینی ماحول کا احساس دلا دیا۔ جیسے جیسے میں اندر داخل ہوتی گئی، ویسے ویسے میرے سامنے چینی ثقافت کی ایک نئی دنیا کھلتی چلی گئی۔ سرخ رنگ کی دلکش سجاوٹ، مدھر چینی موسیقی، روایتی آرائش، ثقافتی علامتیں، فن پارے اور خوبصورت نمائشیں ایک ایسا مسحور کن ماحول پیدا کر رہی تھیں کہ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں پاکستان نہیں بلکہ خود چین کی سرزمین پر موجود ہوں۔ادارے کا ہر گوشہ غیر معمولی محنت، نفاست اور باریک بینی کا آئینہ دار ہے۔ دیواروں پر آویزاں خوبصورت مصوری، چینی خطاطی، قومی علامات، معلوماتی چارٹس اور مختلف نمائشیں چین کی تاریخ، قدیم تہذیب، تعلیمی اداروں، مختلف صوبوں اور حیرت انگیز ترقی کے سفر سے زائرین کو روشناس کراتی ہیں۔ سب سے متاثر کن چیزوں میں سے ایک وہ یادگاری تختی ہے جس کی رونمائی پاکستان میں تعینات سابق چینی سفیر نے کی تھی، جو اس ادارے کی اہمیت اور یہاں آنے والی ممتاز شخصیات کی یاد دلاتی ہے۔ایک خصوصی گیلری میں چین کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی قیادت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، جس کا آغاز چیئرمین ما زے تنگ سے ہوتا ہے اور موجودہ قیادت تک جاری رہتا ہے۔ اسی طرح ایک اور سیکشن میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات، اسٹریٹجک تعاون اور تاریخی معاہدوں کو تصاویر، دستاویزات اور بصری انداز میں محفوظ کیا گیا ہے۔چائنا ونڈو کی تمام دلکشیوں میں اگر کسی چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا تو وہ اس کی شاندار لائبریری تھی۔ یہاں چینی اور پاکستانی مصنفین کی بے شمار نایاب کتابیں موجود ہیں، جن میں صدر شی جن پنگ کی تصانیف کے علاوہ چین کی تاریخ، تہذیب، سیاست، ثقافت اور پاک چین دوستی پر مبنی متعدد اہم کتابیں شامل ہیں۔ یہ لائبریری اس حقیقت کا خوبصورت اظہار ہے کہ ادب، تحقیق اور علمی تبادلہ قوموں کے درمیان باہمی اعتماد اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات یہ تھی کہ چائنا ونڈو صرف چینی تہذیب کی نمائش تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان، بالخصوص پشاور اور خیبر پختونخوا کی ثقافت، روایات، دستکاری اور تاریخی ورثے کو بھی نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ یہاں آنے والے چینی مہمان پاکستان کی تہذیب اور ثقافت سے بھی متعارف ہوتے ہیں، جس سے یہ ادارہ یک طرفہ نمائش کے بجائے حقیقی معنوں میں دو طرفہ ثقافتی سفارت کاری کا بہترین نمونہ بن جاتا ہے۔سنکیانگ سے متعلق ثقافتی سیکشن میرے لیے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔

چونکہ مجھے حال ہی میں کاشغر اور ارمچی کا دورہ کرنے کا موقع ملا تھا، اس لیے وہاں موجود روایتی لباس، ثقافتی اشیا اور تاریخی نمائشوں کو دیکھ کر میری اپنی یادیں تازہ ہوگئیں۔ زائرین، خصوصا طلبہ، کو مختلف چینی نسلی لباس پہن کر تصاویر بنوانے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، جس سے ثقافتی آگاہی ایک دلچسپ اور یادگار تجربہ بن جاتی ہے۔ چند لمحوں کے لیے مجھے واقعی یوں محسوس ہوا جیسے میں دوبارہ کاشغر کی تاریخی گلیوں میں پہنچ گئی ہوں۔ادارے میں موجود سگنیچر وال بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد یادگار ہے، جہاں مختلف ممالک سے آنے والے معزز مہمان اپنے تاثرات اور دستخط ثبت کرتے ہیں۔ اسی طرح بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر چین کے مختلف علاقوں کی ثقافتی تقریبات، تہواروں اور دستاویزی فلموں کی مسلسل نمائش زائرین کو چین کے متنوع ثقافتی حسن سے روشناس کراتی ہے، گویا پشاور میں بیٹھے بیٹھے پورے چین کی سیر ہو جاتی ہے۔چائنا ونڈو کے اندر پاکستان اور چین کے قومی پرچموں کے درمیان کھڑے ہو کر ایک منفرد احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور ثقافتی تبادلے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ سرکاری معاہدے اور سفارتی تعلقات۔دورے کے اختتام پر جناب امجد عزیز ملک نے مجھے چین سے متعلق قیمتی کتابیں اور رسائل تحفے میں پیش کیے۔ مگر ان تحائف سے بڑھ کر جس چیز نے میرے دل کو متاثر کیا، وہ پوری ٹیم کا خلوص، عاجزی اور پاکستان چین دوستی کے فروغ کے لیے ان کی بے لوث وابستگی تھی۔

ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقی سفیر وہ ہوتے ہیں جو تعلیم، ثقافت اور باہمی احترام کے ذریعے قوموں کے درمیان مضبوط پل تعمیر کرتے ہیں۔چائنا ونڈو محض ایک عجائب گھر یا نمائش گاہ نہیں بلکہ ثقافتی سفارت کاری، تعلیمی تبادلوں اور پاکستان و چین کی لازوال "آہنی دوستی” کی ایک روشن علامت ہے۔ ایسے ادارے باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں، نوجوان نسل کو متاثر کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت اور مہذب تشخص اجاگر کرتے ہیں۔جناب امجد عزیز ملک اور محترمہ ناز پروین کی خدمات خراجِ تحسین اور قومی سطح پر اعتراف کی مستحق ہیں۔ ان کی بصیرت، محنت اور لگن نے ایک ایسا منفرد ادارہ قائم کیا ہے جو نہ صرف چین کی عظیم تہذیب کو پاکستان میں متعارف کروا رہا ہے بلکہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کو بھی عالمی مہمانوں کے سامنے باوقار انداز میں پیش کر رہا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے بڑھتے ہوئے سفر میں چائنا ونڈو جیسے ادارے دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جیٹ فیول کی قیمت میں بھی مزید اضافہ ، نئی قیمت 291روپے 55پیسے ہوگئی
حکومت نے کمرشل طیاروں کے ایندھن کی قیمت میں اضافہ کردیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا جس کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ذرائع کا کہنا ہیکہ 2 ہفتوں کے دوران جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 53 روپے 58 پیسے اضافہ ہوچکا۔

کینیڈا نے پاکستانیوں کیلئے اسپانسر شپ پروگرام معطل کردیا
کینیڈا نے پاکستانیوں سمیت تمام شہریوں کے لیے والدین اور گرینڈ پیرنٹس اسپانسرشپ پروگرام عارضی طور پر معطل کردیا۔کینیڈین امیگریشن، رفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے پیرنٹس اینڈ گرینڈ پیرنٹس پروگرام کے تحت نئے درخواست گزاروں کے داخلے کو تا حکمِ ثانی عارضی طور پر روک دیا ہے۔اس فیصلے کا اطلاق پاکستانی نژاد کینیڈین شہریوں اور مستقل رہائشیوں سمیت دنیا بھر کے تمام درخواست گزاروں پر ہوگا۔کینیڈین امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد پروگرام کے تحت بڑھتی ہوئی مانگ کو کنٹرول کرنا اور درخواستوں کی پروسیسنگ کے شدید دبا کو کم کرنا ہے۔ تاہم، پہلے سے جمع کرائی گئی پرانی درخواستوں پر کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔آفیشل نوٹس میں کہا گیا کہ فی الحال نئے انٹرسٹ ٹو اسپانسر فارم قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی ممکنہ اسپانسرز کو درخواست دینے کی دعوت دی جائے گی۔محکمے کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر توجہ اب پہلے سے موجود درخواستوں کو نمٹانے پر مرکوز ہے۔ امیگریشن حکام نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سال 2026 میں اس پروگرام کے تحت پہلے سے زیرِ التوا کیسز میں سے 15,000 افراد کو کینیڈا کی مستقل رہائشیکی منظوری دی جائے گی۔یہ کینیڈا کا ایک مقبول امیگریشن پروگرام ہے جو کینیڈین شہریوں اور وہاں کے مستقل رہائشیوں کو یہ قانونی حق دیتا ہے کہ وہ اپنے والدین، دادا دادی، یا نانا نانی کو کینیڈا بلا کر وہاں کی مستقل رہائش دلوا سکیں۔کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے پروگرام کی معطلی کے باوجود، وہ کینیڈین خاندان جو انے بزرگوں کو اپنے پاس بلانا چاہتے ہیں، وہ اب بھی سپر ویزا کا متبادل آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔یہ ویزا بزرگوں کو مستقل رہائش تو فراہم نہیں کرتا، لیکن انہیں طویل مدت کیلئے کینیڈا میں قیام اور اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت دیتا ہے۔امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ہاسنگ اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دبائو کے باعث امیگریشن قوانین کو بتدریج سخت کیا جا رہا ہے، اور یہ حالیہ معطلی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

 

سونا فی تولہ 2400روپے مہنگا ،قیمت 4لاکھ 24ہزار 236روپے ہوگئی
ملکی صرافہ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں ہفتہ کو 2 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2400 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4لاکھ 24ہزار 236 روپے ہوگئی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھا 2 ہزار57 روپے اضافے سے 3لاکھ 63 ہزار 713 روپے کا ہوگیا ہے۔دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھا 24 ڈالر اضافے سے 4018 ڈالر فی اونس ہے۔

فضائی سفر مزید مہنگا، پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمت میں اضافہ
ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے کمرشل طیاروں کے ایندھن جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کر دیا ہے جس سے فضائی سفر مزید مہنگا ہو جائے گا۔40.35 روپیجیٹ فیول فی لیٹر مہنگا291.55 روپے جیٹ فیول کی نئی قیمت53.58 روپے جیٹ فیول میں دو ہفتوں کا مجموعی اضافہ5.44 روپے پیٹرول فی لیٹر مہنگا316.15 روپے پیٹرول حول کی نئی قیمت31.05 روپے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ354.35 روپے ڈیزل کی نئی قیمت عالمی منڈی خام تیل کی قیمتیں ذمے دار جیٹ فیول کی قیمت میں اس بڑے اضافے کے بعد ائیرلائنز کی جانب سے ہوائی سفر مزید مہنگا کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جیٹ فیول مہنگا ہوا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 53 روپے 58 پیسے اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کے پیش نظر کیا گیا ہے جس سے ملکی سطح پر ہوائی ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حکومت نے نیشنل سیونگز اسکیموں پر منافع کی شرح کم کر دی
حکومت نے نیشنل سیونگز اسکیموں پر منافع کی شرح کم کر دی۔اعلامیے کے مطابق بہبود سیونگز اور پینشنرز بینیفٹ اکانٹ پر سالانہ منافع 12.96 فیصد کر دیا گیا جبکہ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر ماہانہ منافع کی شرح 11.52 فیصد مقرر کی گئی ہے۔قومی بچت اسکیموں کے منافع کی شرح میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر اب1 لاکھ کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 960 روپے منافع ملے گا جبکہ اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ پر پہلے 6 ماہ کا منافع 11.2 فیصد اور آخری 6 ماہ کا 12.6 فیصد ہو گا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ شہدا فیملی ویلفیئر اکانٹ پر بھی سالانہ منافع 12.96 کر دیا گیا ہے۔

میجر لیگ کرکٹ، حارث رئو ف ٹورنامنٹ کے مہنگے ترین فرنٹ لائن بالر رہے
پاکستانی فاسٹ بالر حارث رئو ف نے اپنی میجر لیگ کرکٹ 2026 کی مہم کا مایوس کن خاتمہ کیا ۔ن فرانسسکو یونیکورنز ایلیمینیٹر 2 میں واشنگٹن فریڈم کے ہاتھوں سات رنز سے شکست کے بعد باہر ہو گئے۔ واشنگٹن فریڈم نے ایم ایل سی 2026 کے فائنل میں اپنی جگہ بک کرنے کے لئے 238-6 کا کامیابی سے دفاع کیا اور کپتان میتھیو شارٹ کے سنسنی خیز ناقابل شکست 121 کے باوجود سان فرانسسکو یونیکورنز کو 231-6 تک محدود کر دیا، سات رنز کی شکست نے یونیکورنز کی ٹائٹل کے مقابلے تک پہنچنے کی امیدیں ختم کر دیں۔ حارث رئو ف کا ٹورنامنٹ میں پٹنا پلے آف میں دو خاصے مہنگے سپیلز سے نمایاں ہوا۔ پاکستانی اسپیڈ سٹار نے 16 جولائی کو کوالیفائر میں لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز کے خلاف اپنے چار اوورز میں 53 رنز دیے اور ایلیمینیٹر 2 میں واشنگٹن فریڈم کے خلاف چار وکٹوں کے بغیر 52 رنز بنائے۔دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز نے 10 میچوں میں 10 وکٹیں لے کر مقابلہ ختم کیا لیکن 37 اوورز میں 319 رنز دے کر ان کا مجموعی اکانومی ریٹ 8.62 رہا۔ اس کی مہم میں عدم تسلسل تھا جب کہ اس نے لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز کے خلاف 3/25، MI نیو یارک کے خلاف 2/24 اور 1/13 اور واشنگٹن فریڈم کے خلاف 2/27 کے متاثر کن اسپیل کیے اور لیگ مرحلے کے دوران اس نے کئی مہنگے باولنگ سپیل بھی کیے۔ اپنے دو مہنگے پلے آف سپیلز کے علاوہ حارث رف نے ابتدائی ہفتے میں لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز کے خلاف 2.4 اوورز میں 38 رنز، لیگ مرحلے کے دوران واشنگٹن فریڈم کے خلاف 42 رنز اور سیٹل اورکاس کے خلاف 3.2 اوورز میں 29 رنز دئیے۔ ان پرفارمنس نے حارث رئو ف کو ایم ایل سی 2026 میں سب سے مہنگے فرنٹ لائن بالر کے طور پر ان بالرز میں شامل کیا جنہوں نے کم از کم 30 اوورز کرائے اور پورے ٹورنامنٹ میں کسی اور باقاعدہ بالر نے زیادہ رنز نہیں دئیے۔

فیفا ورلڈ کپ کون جیتے گا؟ پالتو جانوروں کی دلچسپ پیش گوئیاں
فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ مقابلہ پالتو جانوروں کے درمیان بھی جاری رہا ۔مختلف ممالک کی بلیوں اور کتوں نے اپنے انداز میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے یہ بتانا شروع کر دیا کہ ان کے خیال میں عالمی چیمپئن کون بنے گا۔ورلڈ کپ کی تاریخ میں جانوروں کی پیش گوئیوں کی روایت نئی نہیں۔ 2010 کے ورلڈ کپ میں آکٹوپس پال کی حیران کن پیش گوئیوں نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔اس کے بعد بلیوں، کچھوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں کو بھی مختلف مقابلوں کے نتائج کی پیش گوئی کرتے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں کو تفریح کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن شائقین فٹبال انہیں بے حد دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔اس بار بھی کئی پالتو جانوروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ بگ دی برسلز گرفن نامی کتے نے حاصل کی ہے، جس کے مالک اسے ایک ماڈل اور اسپورٹس کمنٹیٹر کہتے ہیں۔بگ پورے ٹورنامنٹ کے دوران مختلف میچز کے نتائج کی پیش گوئیاں کرتا رہا ہے۔ اس کے سامنے دونوں ٹیموں کی نمائندگی کرنے والی گیندیں رکھی جاتی ہیں جن پر مختلف ملکوں کے جھنڈے لگے ہوتے ہیں اور وہ اپنے پنجے سے ایک گیند کو چھو کر اپنی پسندیدہ ٹیم کا انتخاب کرتا ہے۔ اسے ہی فاتح مانا جاتا ہے۔فرانس اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے نمبر کے میچ سے قبل بگ نے انگلینڈ کی حمایت کی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ تھامس ٹوخل کو ہٹا کر بگ کو انگلینڈ کا کوچ بنا دینا چاہیے۔تاہم جب فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان فاتح کے انتخاب کی باری آئی تو بگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسپین کی گیند کو منتخب کر لیا، جس کے بعد اسپین کے مداحوں کی خوشی دیدنی تھی۔دوسری جانب بلی ہارٹ نوز نامی دو سالہ بلی بھی ورلڈ کپ کی پیش گوئیوں کی وجہ سے انٹرنیٹ پر مقبول ہو رہی ہے۔ اس کی مالک کے مطابق بلی اگرچہ پیش گوئی کرنے میں ابھی نئی ہے لیکن سونے کے معاملے میں مکمل پیشہ ور ہے۔فائنل کے فاتح کا انتخاب کرتے وقت بلی کچھ لمحوں تک دونوں جھنڈوں کو غور سے دیکھتی رہی، جس پر اس کی مالک نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید وہ گہری سوچ میں ہے یا پھر ورلڈ کپ کی مسلسل پیش گوئیوں سے تھک چکی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

امریکا کے ایران پر ساتویں رات فضائی حملے مکمل، ایرانی انفرااسٹرکچر تباہ
امریکی فوج نے ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی فضائی حملوں کی لہر مکمل کر لی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایرانی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفرااسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ ذخائر اور بحری فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائی میں جنگی طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر عسکری وسائل کا استعمال کیا گیا۔امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی مکمل طور پر نافذ ہے، جبکہ مشرقِ وسطی میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر چوکس اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔جنوبی اور وسطی علاقوں پر ہونے والے امریکا کے تازہ فضائی حملوں میں جاسک اور بندر عباس کے قریب متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بندر عباس رودان شاہراہ پر 2 پل شدید متاثر ہوئے، ہرمزگان صوبے میں 2 پل اور 1 سرنگ بھی حملوں کی زد میں آئی۔صوبائی حکام کے مطابق حملوں میں 3 افراد شہید، 8 زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ جزیرہ لارک پر میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور، جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پمپ بھی امریکی میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔ایرانی میڈیا کے مطابق خرم آباد، یزد، اہواز، سریک، بوشہر، بندر عباس، داراب اور جزیرہ قشم میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے 2 آئل ٹینکروں کے دھماکوں سے تباہ ہونے سے متعلق ایرانی دعوی مسترد کر دیا۔ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران 2 آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)کی بحریہ کے مطابق دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں وہ بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔آئی آر جی سی بحریہ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ امریکی جارحیت کے باعث آبنائے ہرمز انتہائی غیر محفوظ اور مکمل طور پر بند ہے۔تاہم سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں 2 ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کی خبر غلط ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پلوں، توانائی کی تنصیبات اور ایک بڑی ایرانی بندرگاہ پر واقع ایک ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے دبا بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد کیے گئے۔

کینیڈین جنگلات کے سبب امریکا آلودہ ہوا، ٹرمپ کی کینیڈا کو نئی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ اس کے جنگل میں لگنے والی آگ کے دھوئیں سے امریکی شہروں کی فضائی آلودگی بڑھنے کی قیمت کینیڈا پر عائد ٹیرف میں شامل کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا اپنی جنگلاتی زمین اور جھاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا ہے جس کے باعث آلودہ اور غیر صحت بخش دھواں امریکا تک پہنچ رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس مسئلے پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے بات کروں گا اور اس کے معاشی اثرات کو موجودہ محصولات میں شامل کیا جائے گا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں اس وقت 896 مقامات پر جنگل میں لگنے والی آگ فعال ہے جن میں سے تقریبا 200 صوبہ اونٹاریو میں ہیں۔اونٹاریو کے وزیرِ اعلی ڈگ فورڈ کے مطابق 81 جنگلی مقامات پر آگ تاحال قابو سے باہر ہے جبکہ 10 مقامی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق شمالی امریکا میں جنگلات میں آگ بھڑکنے میں اضافے کی بڑی وجوہات شدید گرمی، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں، تاہم ٹرمپ ماضی میں بھی مختلف آتش زدگیوں کا ذمے دار مقامی حکام اور جنگلاتی انتظامیہ کو ٹھہراتے رہے ہیں۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خود جنگلاتی آگ اور اس کے دھوئیں پر تحقیق کے لیے مختص فنڈز میں کمی کی ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکا میں طلبہ کے ویزوں کی مدت مقرر، توسیع سخت جانچ پڑتال سے مشروط
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ، ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے شرکا اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت سے متعلق سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی نے حتمی ضابطہ جاری کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت مدتِ قیام نامی قانونی سقم کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔حتمی ضابطے کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کے ایف ویزے، ثقافتی تبادلہ پروگرام کے جے ویزے اور میڈیا نمائندوں کے آئی ویزے اب ایک مقررہ مدت کے لیے جاری کیے جائیں گے، اس سے قبل یہ ویزے امریکا میں متعلقہ تعلیمی پروگرام یا ملازمت کی مدت تک موثر رہتے تھے۔یہ ضابطہ فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے 60 روز بعد کانگریس کے جائزے سے مشروط ہو کر نافذ العمل ہو گا۔تازہ ضابطے کے تحت بین الاقوامی طلبہ، تبادلہ پروگراموں کے شرکا اور غیر ملکی صحافیوں کو امریکا میں قیام کے لیے نئی پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔نئے قواعد کے مطابق ایف اور جے ویزا رکھنے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ 4 سال کے لیے امریکا میں داخلے کی اجازت ہو گی، جبکہ صحافیوں کے لیے جاری کیے جانے والے آئی ویزے، جو اس وقت کئی برس تک مثر رہ سکتے ہیں، اب زیادہ سے زیادہ 240 دن کے لیے ہوں گے، تاہم چینی شہریوں کے لیے یہ مدت صرف 90 دن مقرر کی گئی ہے۔ڈی ایچ ایس کے مطابق ویزا ہولڈرز ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے، درخواست گزاروں کو بائیو میٹرک تصدیق، پسِ منظر کی جانچ پڑتال اور دھوکا دہی کی چھان بین کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایف ون ویزے کے حامل طلبہ کو ملک چھوڑنے کے لیے رعایتی مدت 60 روز سے کم کر کے 30 روزکر دی گئی ہے، جبکہ ایف اور جے ویزے میں توسیع لازمی وفاقی منظوری سے مشروط ہو گی۔

 

ایشین جوجٹسو چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی،پاکستان کے7تمغے
پاکستان نے ایشین جوجٹسو چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 تمغے جیت کر ایشیا کی بہترین انڈر16 ٹیم کا اعزاز حاصل کر لیا۔ قومی ٹیم نے چیمپئن شپ کا اختتام 2 طلائی، 3 چاندی اور 2 کانسی کے تمغوں کے ساتھ کیا، جسے ایونٹ کی تاریخ میں پاکستان کی کامیاب ترین مہمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔چیمپئن شپ کے آخری روز انڈر18 فائٹنگ سسٹم کے 85 کلوگرام مقابلوں میں عباد الرحمان نے بھارتی حریف کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا، جبکہ انڈرـ21 ڈو شو سسٹم (مردوں) کے مقابلوں میں عمر یاسین اور عباد الرحمان نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے چاندی کے دو تمغے حاصل کیے، جس سے پاکستان کے مجموعی تمغوں کی تعداد 7 ہو گئی۔

ویسٹ انڈیز کے عظیم کرکٹر سر گیری سوبرز انتقال کرگئے
ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر اور تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل سرگیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ویسٹ انڈیز کرکٹ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر تصور کیے جانے والے گیری سوبرز اپنی 90 ویں سالگرہ سے محض 11 روز قبل جمعے کو بارباڈوس میں اپنے گھر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔سرگیری سوبرز کے انتقال پر جذباتی بیان میں کہا گیا کہ ‘ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچی، ہمارے دلوں میں اب اور ہمیشہ کے لیے سر گیری سوبرز۔گیری سوبرز 28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہوئے اور 6 بہن بھائیوں میں ان کا پانچواں نمبر تھا، ان کے والد کینیڈا کے مرچنٹ نیوی کے ملاح تھے اور جرمن فوج کے حملے میں جاں بحق ہوگئے جب ان کا جہاز ڈوب گیا تھا۔بارباڈوس کی ٹیم کی جانب سے انہوں نے 16 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا اور 1954 میں 17 سال کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف کنگسٹن اوول میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تاہم اپنی پہلی سنچری 26 فروری 1958 کو پاکستان کے خلاف بنائی اور آؤٹ ہوئے بغیر ریکارڈ 365 رنز کی اننگز کھیلی۔ٹیسٹ کرکٹ کی ایک اننگز میں سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ انکے پاس 36 سال تک رہا تاہم یہ ریکارڈ ان کے ہم وطن برائن لارا نے 1994 میں انگلکینڈ انٹیگا میں 375 رنز بنا کر توڑ دیا تھا۔سرگیری سوبرز دنیا کے پہلے بیٹر تھے جنہوں نے ایک اوور میں 6 چھکے مارے تھے جو طویل عرصے تک ان کا ریکارڈ رہا، اس کے علاوہ مسلسل 39 میچوں میں کپتانی کا ریکارڈ بھی بنایا تھا اور پاکستان کے خلاف جارج ٹاؤن میں دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔عظیم آل راؤنڈر نے 1954 سے 1974 کے دوران 93 ٹیسٹ میچز کھیلے اور اپنا آخری میچ بھی انگلینڈ کے خلاف پورٹ آف اسپین میں 30 مارچ سے 5 اپریل 1974 کو کھیلا۔سرگیری سوبرز نے 93 ٹیسٹ میچوں کی 160 اننگز میں بیٹنگ کی، جس میں 30 نصف سنچریوں اور 26 سنچریوں کی مدد سے 8 ہزار 32 رنز بنائے اور فیلڈنگ میں 109 کیچز تھامے، بولنگ میں انہوں نے 235 وکٹیں حاصل کیں اور اننگز میں بہترین بولنگ 73 رنز کے عوض 6 وکٹیں اور میچ میں بہترین بولنگ 80 رنز کے عوض 8 وکٹیں تھیں۔گیری سوبرز نے ویسٹ انڈیز کے لیے صرف ایک ون ڈے میچ کھیلا جو 5 ستمبر 1973 کو لیڈز میں کھیلا گیا تھا، جس میں انہوں نے صرف ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

جانوروں کو ذبح کرکے خون اور باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو وائرل
خیبرپختونخوا حکومت نے جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ۔ رپورٹس کے مطابق بحرین کے علاقے میں دریا کے کنارے جانوروں کا غیر قانونی سلاٹر ہائوس بنایا گیا تھا۔ طویل عرصے سے دریا کے کنارے جانور ذبح ہوتے رہے، تاہم مقامی انتظامیہ اس صورتحال سے مکمل طور پر لاعلم رہی اور اب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آ گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپر سوات کی ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔حکومتی احکامات کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی سیاحتی مقامات اور دریاں کے کناروں پر غیر قانونی سلاٹر ہائوسز کے قیام اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ماحولیاتی آلودگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر انتظامی غفلت کے سبب دریاں میں آلائشیں پھینکنے کا یہ عمل عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

ڈیرہ میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، مطلوب خارجی کمانڈر ہلاک
سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں مطلوب خارجی کمانڈر ہلاک کردیا۔ترجمان کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کو اپنی ٹیکنیکل ٹیم کے ذریعے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی کہ مطلوب خارجی دہشت گرد خالد عرف کمانڈر ولد سدو زئی عرف الو زئی، سکنہ منیز آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، جو سی ٹی ڈی کے شہید کانسٹیبل محمد علی کی ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دیگر مقدمات میں مطلوب تھا علاقہ کورائی، حدودِ تھانہ شورکوٹ میں موجود ہے۔مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر سی ٹی ڈی کی اسپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس ٹیم نے 18 جولائی 2026 کی علی الصبح ٹانک۔ڈیرہ اسماعیل خان روڈ، کورائی کے مقام پر ایک ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران دہشت گرد کو گھیرے میں لے کر متعدد بار ہتھیار ڈالنے کیلئے پکارا گیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس نے سرنڈر کرنے کے بجائے سی ٹی ڈی ٹیم پر بے فائرنگ شروع کر دی۔ حقِ حفاظتِ خود اختیاری کے تحت سی ٹی ڈی اہلکاروں نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں خارجی خالد عرف کمانڈر ہلاک ہو گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک خارجی نے 17 مارچ 2025 کو کانسٹیبل محمد علی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ لوکل پولیس کو بھی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا،وہ اپنی اصل شناخت چھپا کر، روپ بدل کر نقل و حرکت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے میں مہارت رکھتا تھا،ہلاک دہشت گرد کا تعلق ٹی ٹی پی ذاکر کوچی کاروان گروپ سے تھا۔ اس کے سہولت کاروں، مالی معاونین، لاجسٹک سپورٹرز اور معاون نیٹ ورکس کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں،ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے ایک عدد نائن ایم ایم پستول، ایک عدد ہینڈ گرینیڈ اور ایک عدد اسمارٹ فون برآمد ہوا، جنہیں فورنزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں پوری قوت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ بلاتعطل جاری رہیں گی، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

ہنگو میں خزینہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام، ایک پولیس اہلکار زخمی
فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے گزشتہ رات خزینہ چیک پوسٹ پر قبضے کی کوشش بنادی گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق پولیس اہلکاروں نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تین گھنٹے تک دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے باعث حملہ آور اپنے عزائم میں ناکام رہے۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

سوات،کالام میں گلیشیئر ٹوٹنے سے 7 افراد ذد میں آ گئے، ایک شخص لاپتہ
کالام کے علاقے مٹلتان میں گلیشیئر ٹوٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ریسکیو کے ذرائع کے مطابق 7 افراد گلیشیئر کی زد میں آ گئے جن میں سے 3 زخمی ہوئے اور ایک شخص لاپتہ ہے۔ریسکیو ٹیم کے مطابق زد میں آنے والے 3 افراد محفوظ رہے ہیں۔پولیس کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے کے بالائی اضلاع میں گلشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری کردیا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 19 سے 25 جولائی کے دوران بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور فلش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے اپر و لوئر چترال، اپر دیر، سوات، بحرین، اپر و لوئر کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ریسکیو اداروں کو ہنگامی مشینری، عملہ اور امدادی سامان ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

فیفا ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر پہنچ گئی
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میچ سے قبل ارجنٹائن میں توہم پرستی عروج پر پہنچ گئی، شائقین نے خوش قسمتی کیلیے عجیب و غریب رسومات کو اپنالیا۔ایک رپورٹ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹائن میں فٹبال شائقین اور ٹیم کے کھلاڑی اپنی فتح کے لیے مختلف عقائد اور ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں، پرانی شرٹس پہننے سے لے کر، مخصوص اسٹیکرز جمع کرنے اور پوجا پاٹ تک کے توہم پرستانہ طریقے عام ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں اسپین کے خلاف فیصلہ کن مقابلے سے قبل ارجنٹائن میں فٹبال کا جنون عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں لاکھوں شائقین ٹیم کی کامیابی کیلئے خوش قسمتی کی مختلف رسومات یا توہم پرستانہ روایات پر عمل کر رہے ہیں۔ارجنٹائن نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1ـ2 سے شکست دے کر مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کی امیدیں روشن کردی ہیں، تاہم فائنل سے قبل مداح اعصابی دباؤ کم کرنے کے لیے اپنی اپنی روایتی رسومات کو کامیابی کی ضمانت سمجھ رہے ہیں۔بیونس آئرس کے علاقے لینیئرز سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ آندریس گونزالیز کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران کوئی بھی شخص اپنی جگہ نہیں بدلتا۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص باتھ روم گیا ہو اور اسی دوران ارجنٹائن گول کر دے تو اسے میچ ختم ہونے تک وہیں رہنا پڑتا ہے کیونکہ وہ اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے دوران اپنی مخصوص روایت نہیں توڑتے اور ہر میچ صدارتی رہائش گاہ سے ہی دیکھتے ہیں۔65سالہ ایسٹیلا وارگاس کے گھر میں ہر میچ کے دوران خاندان کے تمام افراد ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ایک ہی نشست پر بیٹھتے ہیں، جبکہ ان کا پالتو کتا میچ کے دوران گھر سے باہر رہتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں چونکہ کتا انگلش بل ڈاگ نسل کا تھا، اس لیے اسے ارجنٹائن کی جرسی پہنائی گئی، لیکن اسپین کے خلاف میچ میں اسے ہر حال میں باہر رکھا جائے گا۔اسی طرح ایک اور خاتون گریسیلا کامپوس کے گھر میں ان کی ساس میچ کے دوران کمرہ چھوڑ کر باورچی خانے میں نیلے اور سفید رنگ کا مفلر بنتی رہتی ہیں، کیونکہ خاندان اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتا ہے۔ماہرِ سماجیات ڈیاگو مورزی کے مطابق ارجنٹائن میں لوگ خود کو صرف تماشائی نہیں بلکہ ٹیم کی کامیابی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ مختلف رسومات کے ذریعے شائقین یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے خوش قسمتی لا رہے ہیں اور بدقسمتی کو دور کر رہے ہیں۔ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میرا ڈونا آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں، بیونس آئرس میں ان کے سابقہ گھر کو عقیدت کی علامت کے طور پر سجا دیا گیا ہے، جہاں شائقین ان سے منسوب یادگار پر حاضری دیتے ہیں۔بعض مداح اب بھی پرانی روایت کے مطابق مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر یا اسٹیکرز فریزر میں رکھ کر اپنی ٹیم کی کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔

 

وانا میں دہشتگردی کی بڑی کوشش ناکام بنادی گئی
سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس پر مبنی کارروائی سے وانا اور گردونواح کی شہری آبادی کو ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچا لیا، جبکہ سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا (غواخوا)میں بارودی مواد سے بھری گاڑی خودکش حملے سے پہلے ہی تباہ کردی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق گاڑی میں موجود دھماکا خیز مواد کسی ممکنہ بڑے دہشتگرد حملے میں استعمال کیا جانا تھا، تاہم کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا، سکیورٹی فورسز نے خودکش حملے کیلئے تیار گاڑی کی مسلسل تین دن نگرانی کی اور آبادی سے دور جانے پر ہی اسے نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل تباہ ہوگئی، ایک خارجی جہنم واصل جبکہ 5 زخمی ہوگئے، دہشتگردی کیخلاف یہ کامیاب کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز امن دشمن عناصر کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے گزشتہ رات خزینہ چیک پوسٹ پر قبضے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق پولیس اہلکاروں نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تقریبا تین گھنٹے تک دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے باعث حملہ آور اپنے عزائم میں ناکام رہے۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

سرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، 14فلسطینی شہید
غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14 فلسطینی شہید اور متعددزخمی ہو گئے، جن میں سے نصف سے زیادہ ایک ڈرون حملے میں اس وقت مارے گئے جب وہ جنازے کے جلوس میں شرکتکیلئے جمع تھے۔قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ساتھ ہونے والی نام نہاد جنگ بندی کے نو ماہ گزرنے کے باوجود اسرائیل تقریبا روزانہ اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔وسطی غزہ میں واقع نصیرات پناہ گزین کیمپ کے بلاطہ مارکیٹ کے علاقے میں شہریوں کے ایک اجتماع پر اسرائیلی حملے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی اور ایک ہسپتال نے اس کی تصدیق کی ہے۔العودہ ہسپتال کے مطابق اس حملے میں کم از کم 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔عینی شاہدین کے مطابق ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا جب فلسطینی سوگوار احمد یسین مسجد کے باہر جمع تھے اور اسی علاقے میں اس سے قبل ہونے والے ایک علیحدہ حملے میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی کے جنازے کا جلوس شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے راس الخیمہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آپریشن الفارس الشہم۔ 3 کے تحت 100 ٹن امدادی سامان پر مشتمل ایک طیارہ غزہ پہنچ گیا۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ امدادی پرواز ہلالِ احمر امارات، اماراتی فلسطینی فرینڈشپ کلب اور دار البر سوسائٹی کے تعاون سے روانہ کی گئی، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینی عوام کی امداد کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق طیارے میں بچوں کا دودھ، ادویات اور ملبوسات شامل ہیں تاکہ فوری انسانی ضروریات پوری کی جا سکیں اور بحران سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔آپریشن الفارس الشہم ۔3 کے ریلیف آپریشنز کے کوآرڈینیٹر حمود العفاری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی قیادت کی ہدایات کے مطابق شراکت دار اداروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کی مدد کے لئے اپنی لاجسٹک اور امدادی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد غزہ تک انسانی اور طبی امداد کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا، شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا، ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا اور انسانی بحران کے اثرات میں کمی لانا ہے۔یہ امدادی پرواز آپریشن الفارس الشہم 3 کے تحت غزہ کے فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچانے کی متحدہ عرب امارات کی مسلسل انسانی کوششوں کا

دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3ارب افراد بھوکے سوتے ہیں
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی ہر 10 میں سے ایک شخص انتہائی غربت کا شکار ہے، 2.3 ارب افراد ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقتصادی و سماجی کونسل(ای سی او ایس او سی ) کے اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امینہ محمد نے کہا کہ 2026 کی پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جی ایس) سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایک تہائی سے زائد اہداف یا تو درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں یا ان پر معتدل پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم مختلف اہداف اور ممالک کے درمیان پیش رفت میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی تک رسائی دنیا کی 92 فیصد آبادی تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تناسب 2015 میں 40 فیصد سے بڑھ کر اب 74 فیصد ہو گیا ہے۔امینہ محمد نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف آج بھی انتہائی اہم ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں تاہم دنیا 2015 کے مقابلے میں بہت مختلف ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، غذائی عدم تحفظ، قرضوں کے بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے باہم جڑے ہوئے مسائل پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار سست کر رہے ہیں، جبکہ زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے اور پرتشدد تنازعات کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط، سرمایہ کاری میں اضافہ اور ایسے جامع حل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو بیک وقت متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ہوں۔امینہ محمد نے 2027 کے ایس ڈی جی سربراہی اجلاس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس محض پیش رفت کا جائزہ لینے تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے عملی نتائج اور نئے سیاسی عزم کا مظہر بننا چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

2045 تک دنیا میں 50ہزار ماحول دوست طیارے پرواز کریں گے، بوئنگ کی پیشگوئی
جہاز بنانے والی دنیا کی معروف کمپنی بوئنگ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ سال 2045 تک دنیا بھر میں تجارتی طیاروں کی مجموعی تعداد 50 ہزار تک پہنچ جائے گی جن میں سے 90 فیصد سے زائد طیارے زیادہ ایندھن بچانے والے اور نئی جنریشن کے جدید ترین ڈیزائن پر مبنی ہوں گے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں فعال طیاروں کی تعداد تقریباً 28 ہزار ہے اور بوئنگ کا یہ نیا تخمینہ معاشی ترقی اور نئے سفری روٹس کے کھلنے کے باعث طویل مدتی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔بوئنگ کے سالانہ آٹ لک کے مطابق ہوائی سفر کی اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور پرانے طیاروں کو تبدیل کرنے کیلئے جہاز ساز کمپنیوں کو اگلے دو ہائیوں میں قریبا 44 ہزار نئے طیارے تیار کرنا ہوں گے۔یہ اعدادوشمار برطانیہ میں آئندہ ہفتے شروع ہونے والے فارنبورو ایئر شو سے قبل جاری کیے گئے ہیں جو کہ کمپنی کے پچھلے سال کے تخمینوں سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ 2045 تک دنیا کے 92 فیصد فضائی بیڑے میں ایسے طیارے شامل ہوں گے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ طیاروں کے مقابلے میں قریبا 20 فیصد کم ایندھن استعمال کریں گے۔واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں موجود کل طیاروں میں سے صرف 32 فیصد طیارے ہی اس نئی جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں۔بوئنگ کے کمرشل مارکیٹنگ کے نائب صدر ڈیرن ہلسٹ نے ایک بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ موجودہ سال فضائی صنعت اور ایئر لائنز کے لیے تجارتی لحاظ سے ویسا ثابت نہیں ہو رہا جیسا کہ سال کے آغاز میں توقع کی جا رہی تھی۔ان کا کہنا تھا تاہم، اس کے باوجود فضائی سفر کی بنیادی وجوہات اور اس کی طلب اپنی جگہ مکمل طور پر برقرار ہے۔ ڈیرن ہلسٹ کے مطابق موجودہ سال کے لیے سفری طلب اب توقعات سے آدھی یا اس سے بھی کچھ کم رہنے کا امکان ہے۔ڈیرن ہلسٹ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی اور تنازع کے باعث ایئر لائنز نے کتنی تیزی سے اپنے فضائی روٹس کو دوسرے خطوں کی طرف منتقل کیا۔ان کا کہنا تھا ہم نے دیکھا کہ مسافروں نے اپنے طویل سفر کے لیے مشرقِ وسطی کے بجائے یورپ، ایشیا اور بعض صورتوں میں شمالی امریکہ کے ہوائی اڈوں(ہبز) کو ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔بوئنگ کی اس رپورٹ میں اگلے 20 برسوں کے دوران مسافروں کی آمد و رفت میں سالانہ چار فیصد اور عالمی معیشت میں ڈھائی فیصد سالانہ ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔پچھلے سال کی طرح اس بار بھی بوئنگ کی رپورٹ نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے سپلائی چین (سامان کی فراہمی) میں آنے والی رکاوٹوں کے باعث نئے طیاروں کی پیداوار اور ان کی مانگ کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی نشان دہی کی ہے۔ڈیرن ہلسٹ کا کہنا تھا کہ طیاروں کی پیداوار میں یہ کمی یا خسارہ چھوٹے (سنگل آئل )طیاروں کیلئے شاید موجودہ دہائی کے اختتام تک ختم نہ ہو سکے جبکہ بڑے (وائیڈ باڈی)طیاروں کی پیداوار میں یہ تعطل اگلی دہائی کے اوائل تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

 

ایران کا اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ
ایران نے اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سعید ایروانی نے کہا کہ یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی اور طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی ممانعت کی خلاف ورزی ہیں۔ایرانی سفیر کے مطابق جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح ہونے والے حملوں میں بندر عباس اور کہورستان بندر خمیر کے راستوں پر کئی اہم پل تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق ایک پل کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک عام شہری کی گاڑی تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔انھوں نے کہا کہ بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شہری ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔ایروانی نے بتایا کہ بندر عباس ریلوے سٹیشن، جو بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کا اہم حصہ ہے، کو بھی براہِ راست فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے ٹرمینل کو نقصان پہنچا اور ریلوے کے دو ملازمین زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس روٹ پر مسافر ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ تصدیق شدہ 43 ہلاکتوں میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 22 خواتین اور نو کم عمر بچے شامل ہیں۔ایران کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایروانی نے کہا کہ جولائی کے آغاز سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 47 افراد تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔سعید ایرانی نے کہا کہ شہری املاک، خاص طور پر اہم ٹرانسپورٹ اور ریلوے نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔انھوں نے واشنگٹن کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ماحولیاتی نقصانات اور دیگر نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔ایروانی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرے اور امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنائے۔ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مذاکرات اور جنگ ساتھ چلنے کی پالیسی ختم، اب بھرپور جواب دینگے،ایران
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات اور جنگ ساتھ ساتھ چلنے کی پالیسی ختم ہوگئی، اگر امریکا نے مزید 2 سے 3 روز جنگ اپنائی تو ایران بھی طبل جنگ بجا دے گا اور دشمن کی تباہی پر اتر آئے گا۔سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہاکہ امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، جنگ میں دفاعی نہیں، جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر سکتے ہیں، چند روز مزید حملے ہوئے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع ہوگا ۔میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی معاہدے کی مکمل خلاف ورزی کی جس کے ساتھ ہی امریکا کے ساتھ ایران کی مفاہمتی یادداشت تقریبا مردہ ہوچکی ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کا جنوبی لبنان سے انخلا نہ کرنا، آبنائے ہرمز میں قانونی ایرانی راستے کی موجودگی کے باوجود ایک غیر قانونی متبادل راستہ بنانا، ایرانی سرزمین پر حملوں کے ذریعے ایران کی خودمختاری کا احترام نہ کرنا اور ایران کے اثاثے جاری نہ کرنا، یہ سب امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے فریم ورک معاہدے پر دستخط ایران پر زیادہ سے زیادہ دبا ڈالنے اور اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے مقصد سے کیے تھے۔رضائی کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکا نے بیک وقت جنگ اور مذاکرات کی پالیسی اختیار کی۔امریکا کی خلاف ورزیوں کے بعد مذاکرات اور جنگ ساتھ ساتھ چلنیکی پالیسی ختم ہوگئی۔میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ امریکی فوج نے جنگ بندی کے موقع کو اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے استعمال کیا تاہم ایرانی مسلح افواج امریکی جارح کو پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی۔ ایران مسلح افواج نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکا نے اگر ایرانی انفرا اسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا تو ان تمام ممالک میں قائم امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو اپنی سرزمین کو امریکی فوج کے استعمال کی اجازت دے رہے ہیں۔

وفاق نے ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو شدید ردعمل دیں گے،سہیل آفریدی
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاہے کہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو شدید رد عمل دیا جائے گا۔وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف منعقدہ جرگے سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم اضلاع میں کوئی ٹیکس نہیں لے رہی، خیبرپختونخوا حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، صوبے کے مسائل پر ساتھ دینے پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کلچر تبدیل ہو رہا ہے، عوامی مسائل پر سب اکٹھے ہوتے ہیں، وفاق سے بات کرنے کے لئے اعلی سطح کا وفد تشکیل دیا جائے گا، وفاقی حکومت نے ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو شدید رد عمل دیا جائے گا، ہم عوامی لوگ ہیں، عوام ہی ہماری ترجیح ہے۔وزیر اعلی کے پی نے صوبے میں دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہم نے صوبائی ایکشن پلان بنایا ہے، صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہو تو 4 ماہ میں امن آسکتا ہے، صوبے میں امن و امان سے متعلق الگ سے ایک جرگہ منعقد کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے کہاکہ خیبرپختونخوا کا مالی مقدمہ لڑنے کیلئے اسلام آباد میں جرگہ منعقد کیا جائے گا، اگر میں سمجھوتا کرلیتا تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات ہو جاتی، میرا فیصلہ میرے عوام ہی واپس لے سکتے ہیں، ہم عوامی طاقت سے ہی آتے ہیں، اگر کوئی فیصلہ عوام کو پسند نہیں آتا تو وہ واپس لے لیتے ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی دستاویز نشر کر دیں
وائٹ ہائوس نے ان دستاویزات کا ایک بنڈل نشر کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا تعلق اس معاملے سے ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کی شفافیت قرار دیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے امریکیوں سے وائٹ ہائوس کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے ان کا جائزہ لینے کی اپیل کی ۔وائٹ ہائوس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان دستاویزات میں انٹیلی جنس رپورٹس، تحقیقاتی ریکارڈ اور سکیورٹی دستاویزات شامل ہیں جن میں ووٹنگ سسٹم کی سکیورٹی، ووٹرز کے ڈیٹا کی ہیکنگ، ریاست مشی گن میں ووٹرز کی رجسٹریشن کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ووٹر لسٹوں میں غیر شہریوں کی موجودگی سے متعلق جائزہ شامل ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کردہ جائزوں، جن میں سے کچھ کا تعلق 2020 اور 2026 کے درمیان کے عرصے سے ہے، نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکی انتخابی بنیادی ڈھانچہ بشمول الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور ووٹوں کی گنتی کے نظام، سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔یہ دستاویزات اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ ووٹر رجسٹریشن کے ڈیٹا بیس، پولنگ کے ریکارڈ اور انتخابات کی سرکاری ویب سائٹس روس، چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری گروپوں کی جانب سے سب سے زیادہ نشانہ بنائے جانے والے مقامات ہیں۔دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کی جانب سے اپنے ملک میں انتخابی نتائج میں ڈیجیٹل ہیرا پھیری کی صلاحیتوں سے متعلق معلومات کا مشاہدہ کیا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ یہ بات امریکی نظام کو کسی بھی ایسے ہی ہیکنگ کے واقعے سے بچانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔نشر کی گئی دستاویزات کے وسیع حصے ترمیم شدہ ہیں کیونکہ متعدد صفحات پر ناموں یا پورے پیراگرافوں کو کالی لکیروں سے چھپایا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے حساس معاملات میں اس سے پہلے نشر کی جانے والی سرکاری دستاویزات میں کیا گیا تھا۔ پہلے ایسی نشر کی گئی دستاویز میں جیفری ایپسٹین کیس سے وابستہ فائلیں بھی شامل ہیں۔وائٹ ہائوس نے نشر کی گئی دستاویزات میں ان حصوں کو چھپانے کی وجوہات یا ترمیم شدہ معلومات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی، یہ وہ طریقہ کار ہے جو عام طور پر ایسی سرکاری دستاویزات کو نشر کرتے وقت استعمال کیا جاتا ہے جن میں خفیہ معلومات یا ایسا ڈیٹا شامل ہو جس کا انکشاف ممنوع ہو۔جہاں تک چین سے متعلق نشر کی جانے والی اہم ترین دستاویزات کا تعلق ہے تو ایک بڑا حصہ اس چیز کے لیے مختص کیا گیا ہے جسے ویب سائٹ نے تاریخ میں انتخابی ڈیٹا کی سب سے بڑی ہیکنگ قرار دیا ہے کیونکہ واشنگٹن کا دعوی ہے کہ چین 2020 کے انتخابی دور سے لے کر اب تک تقریبا 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا کا ریکارڈ غیر قانونی طور پر حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس میں نام، پتے، فون نمبر، پارٹی وابستگیاں اور ووٹر رجسٹریشن میں استعمال ہونے والی دیگر معلومات شامل ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے اس ڈیٹا کو استعمال کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا تھا۔ وہ امریکی انٹیلی جنس کے سابق اداروں کے اندر موجود عہدیداروں پر اس واقعے کی اہمیت کو کم تر دکھانے اور صدر اور رائے عامہ کو اس کی تفصیلات سے آگاہ نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے باوجود اس کے کہ امریکہ کی 18 ریاستوں میں ڈیٹا ہیکنگ کا انکشاف ہوا تھا۔ان دستاویزات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)کی وہ فائلیں بھی شامل ہیں جن کا تعلق 2020 کے انتخابات کے دوران ریاست مشی گن میں ووٹرز کی رجسٹریشن کے عمل کی تحقیقات سے ہے۔ دستاویزات کے مطابق ریاست کی پولیس نے بے ضابطگیوں کے شبہ کے بعد مسکیگن شہر میں ووٹرز کو متحرک کرنے سے وابستہ ایک تنظیم پر چھاپہ مارا تھا۔ اس کے بعد ایف بی آئی نے تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فائلیں بتاتی ہیں کہ کچھ ملازمین نے دوسرے لوگوں کے ناموں سے رجسٹریشن فارموں پر دستخط کرنے اور جمع کرائے گئے فارموں کی تعداد سے منسلک گفٹ کارڈز حاصل کرنے کے عوض غیر موجود لوگوں کے لیے درخواستیں دینے کا اعتراف کیا ہے۔وائٹ ہائوس کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے محققین کا ماننا ہے کہ ممکنہ جرائم کا ارتکاب ہوا ہے ۔ وائٹ ہاس نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں وزارت انصاف پر تحقیقات کو سست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ نے ایف بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر کو معاملے کی پیروی کرنے اور بے ضابطگیاں ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دینے کا اعلان کیا ہے۔ان دستاویزات میں ایک جائزہ بھی شامل ہے جو وائٹ ہاس کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزارت کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ وائٹ ہائوس کا کہنا تھا کہ اس نے وفاقی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے رجسٹرڈ تقریبا 2 لاکھ 78 ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جو امریکی نہیں ہیں۔دستاویزات کا دعوی ہے کہ حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ ریاستوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ ووٹرز کے ڈیٹا بیس کا اشتراک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا ماننا ہے کہ یہ نتائج ووٹرز کی اہلیت کی تصدیق کے عمل میں خامیوں کی موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔دستاویزات کا اختتام انتخابی قوانین کو سخت کرنے کی دعوت پر ہوتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ ایک کمزور انتخابی نظام کو بے نقاب کرتا ہے جسے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان اصلاحات میں ووٹرز کے لیے امریکی شہریت ثابت کرنا لازم قرار دینا، ووٹر آئی ڈی کارڈز کا زیادہ وسیع پیمانے پر اطلاق کرنا اور الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز اور رجسٹریشن ڈیٹا بیس کے تحفظ کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو وائٹ ہاس کے مطابق انتخابی شفافیت کے حوالے سے ٹرمپ کے ماضی میں جاری کردہ انتظامی احکامات کے عین مطابق ہیں۔دوسری طرف ان دستاویزات نے امریکہ میں ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا تھا کہ نشر کردہ مواد 2020 کے انتخابی نتائج کے علاوہ کسی دھاندلی کے وقوع پذیر ہونے کو ثابت نہیں کرتا اور یہ کہ یہ بیرونی اثر و رسوخ کی کوششوں اور پولنگ کے نتائج کو تبدیل کرنے سے متعلق دعووں کے درمیان خلط ملط کرتا ہے۔ میڈیا رپورٹس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ماضی کے انٹیلی جنس جائزوں اور امریکی عدالتوں کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بیرونی مداخلت کے نتیجے میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج تبدیل ہوئے ہوں۔

ایک سال میں ٹیلی کام نیٹ ورک پر چوری اور توڑ پھوڑ کے 287واقعات
پاکستان کے ٹیلی کام نیٹ ورک کو گزشتہ ایک سال کے دوران چوری اور توڑ پھوڑ کے مسلسل حملوں کا سامنا رہا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک کے چار حساس اضلاع میں مجموعی طور پر 287 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں تقریبا دو تہائی صرف ضلع بنوں میں پیش آئے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ واقعات خیبرپختونخوا کے بنوں اور لکی مروت جبکہ بلوچستان کے تربت اور قلعہ عبداللہ میں پیش آئے جہاں ٹیلی کام تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے باعث ان اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں 178، لکی مروت میں 100، تربت میں آٹھ اور قلعہ عبداللہ میں ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹیلی کام کمپنیوں میں زونگ سب سے زیادہ متاثر رہی، جس نے 177 واقعات رپورٹ کیے، جبکہ جاز کے 110 واقعات سامنے آئے۔ دستاویزات کے مطابق یوفون اور ٹیلی نار نے اس عرصے کے دوران ان اضلاع میں چوری یا توڑ پھوڑ کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا۔دستاویزات کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر 287 واقعات پیش آئے، تاہم ان میں سے صرف 98 واقعات ہی باضابطہ طور پر درج کیے گئے، یعنی تقریبا 34 فیصد واقعات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے۔رپورٹ کے مطابق ایندھن کی چوری سب سے بڑا مسئلہ رہی، جس کے 114 واقعات سامنے آئے۔ اس کے بعد بجلی کی چوری کے 56 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ٹیلی کام تنصیبات پر نصب بیک اپ بجلی کے نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیلی کام آلات کی چوری کے 10 واقعات جبکہ توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے 9 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 98 معمولی نوعیت کے دیگر واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔جاز کے مطابق اس کے ہاں آلات کی چوری کے سات، توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے پانچ اور 98 معمولی نوعیت کے واقعات پیش آئے۔ دوسری جانب زونگ نے آلات کی چوری کے تین، ایندھن کی چوری کے 114، بجلی کی چوری کے 56 اور توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے 9 واقعات رپورٹ کیے۔دستاویزات کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے شکایت کی ہے کہ متعدد واقعات مقامی انتظامیہ کی جانب سے درج ہی نہیں کیے گئے، جس کے باعث اصل تعداد اور سرکاری ریکارڈ میں نمایاں فرق پیدا ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر مسلسل حملوں کے باعث کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ متاثرہ مقامات کی بار بار مرمت اور بحالی پر بھاری وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں۔ کئی اضلاع میں ایک ہی سال کے دوران ایک ہی مقامات کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔دستاویزات کے مطابق حساس علاقوں میں ایندھن اور بجلی سے متعلق آلات کی چوری ٹیلی کام خدمات کے لئے بدستور ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ واقعات کی کم سرکاری رپورٹنگ مسئلے کی حقیقی شدت کا درست اندازہ لگانے اور موثر حفاظتی اقدامات کی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

 

 

 

 

واٹس ایپ اور بینک اکائونٹس ہیکنگ میں اضافہ، ایکشن پلان تیار کر لیا گیا
ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) خرم علی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں واٹس ایپ اور بینک اکائو نٹس ہیک ہونے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان جرائم سے نمٹنے کیلئے جامع ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم علی نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کے متاثرین کی مدد کیلئے جلد ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے، جہاں صارفین کو ہیک شدہ واٹس ایپ اکائو نٹس کی بحالی اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ میٹا کے تعاون سے مقامی زبانوں میں عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ شہری سائبر فراڈ سے بچائو کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق ٹو سٹیپ ویریفکیشن فعال کرنے کی مہم کے بعد واٹس ایپ ہیکنگ کے بعض کیسز میں کمی آئی، تاہم سائبر مجرم اب نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اورموبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث آن لائن فراڈ اورسائبرجرائم میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔خرم علی نے بتایا کہ بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں پاکستان میں سرگرم کئی سائبر کرائم گینگزکو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے او ٹی پی(ون ٹائم پاس ورڈ) کے غلط استعمال کی روک تھام پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے عوام کوسختی سے ہدایت کی کہ موبائل فون پر موصول ہونے والا خفیہ او ٹی پی کوڈ کسی بھی صورت کسی کے ساتھ شیئرنہ کریں کیونکہ یہی واٹس ایپ اور بینک اکائو نٹس ہیک ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔انہوں نے شہریوں پر زوردیا کہ اپنے واٹس ایپ اور بینک اکائو نٹس کے تحفظ کے لئیحفاظتی اقدامات ضرور اپنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed