عظیم شاعرساغر صدیقی کی 52ویں برسی

 ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
پھرتے ہیں لوگ چاک گریباں گلی گلی
مجروح زندگی کو لگائے ہوئے گلے
19جولائی کو ساغر صدیقی کی 52ویں برسی منائی جاتی ہے۔ساغر صدیقی کا شمار درویش صفت شاعروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری سے اپنے عہدمیں بھی متاثر کیا اور آج بھی ان کی شاعری پڑھ کر آنے والی نسلوں دانشورانہ سوچ پررشک کرتی دکھائی دیتی ہے۔ساغر صدیقی 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔وہ ماں کی مامتا اور باپ کی شفقت دونوں سے محروم رہے۔کسی بہن بھائی کا بھی سہارا نہیں تھا۔ساغر نے حبیب حسن نامی ایک بزرگ سے تعلیم حاصل کی اور بچپن سے شعر کہنے کا شوق ہوا۔ساتھ آٹھ برس کی عمر میں اس نے اُردو زبان پر عبور حاصل کر لیا۔شروع میں”ناصر حجازی کے نام سے شاعری کی لیکن ڈیڑھ دوماہ بعدہی یہ تخلص ”ساغر صدیقی ”میں تبدیل ہو گیا جو آج تک موجود ہے۔درمیانہ قد، کشادہ پیشانی،ٹیڑھی آنکھیں،مٹی سے اٹے بال،بڑھی ہوئی شیو،چپل سے محروم پاؤں،سیاہ میلی کچیلی چادر میں لپٹا نحیف ونزار جسم لئے ساغر اپنے حال میں مست لاہور کی سڑکوں پر خال میں خاک ہوتا رہاساغر نے جتنی چرس پی تھی اور مارفیاکے انجکشن لئے وہ کسی بھی آدمی کا پاگل کر سکتا تھا لیکن وہ آخر دم تک خوبصورت شعر کہتا رہا۔ساغر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا بلکہ تقسیم ہند سے پہلے وہ ایک خوش پوش نوجوان تھا۔ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی ۔ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ ترنم میں پڑھنے میں جواب نہیں رکھتے تھے۔1947ء میں پاکستان بنا تو وہ امرتسر سے لاہور چلے آئے ۔یہاں شاعروں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کا کلام پرچوں میں چھپنے لگا۔ فلم والوں نے گیتوں کی فرمائش کی اور انہیں حیران کن کامیابی ہوئی۔اس دور کی متعدد فلموں کے گیت ساغر کے لکھے ہوئے ہیں۔اس زمانے میں انکے سرپرست انور کمال پاشا تھے جو پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کے بانیوں میں سے ہیں۔انہوں نے اپنی بیشتر فلموں کے گانے ساغر سے لکھوائے۔1947ء سے 1952ء تک کا دور ساغر کی زندگی کا سنہری دور کہا جا سکتا ہے۔وہ لاہور کے کئی روزناموں اور ہفتہ وار پر چوں سے منسلک ہوگئے تھے۔بعض جریدے تو انہی کی ادارت میں شائع ہونے لگے تھے لیکن اس کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ کہیں کے نہ رہے ۔1952ء کی بات ہے کہ وہ ایک ادبی ماہنا مے کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے سردرد کی شکایت کی ۔پاس ہی ایک شاعر دوست بھی بیٹھے تھے۔انہوں نے اخلاص ہمدردی میں مارفیا کا ٹیکہ لگا دیا۔سردردتو دور ہا گیا لیکن اس معمولی واقعے نے ان کے جسم میں نشہ بازی کا بیج بو دیا۔اس زمانے میں وہ انار کلی میں ایک دوست کے والد کے مطب کی اوپر کی منزل میں رہتے تھے۔اسی کمرے میں ان کے ساتھ ایک دوست بھی مقیم تھے۔ان کو ہر طرح کے نشوں کی عادت تھی۔ان کی صحبت میں ساغر بھی رفتہ رفتہ شراب اور ان سے گزر کر افیون اور چرس کے عادی ہوگئے۔ساغر کے ساتھ خود ان کے دوستوں میں سے بیشتر نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔یہ لوگ انہیں چرس کی پڑیا اور مارفیاکے ٹیکے لگاتے اور ان سے غزلیں اور گیت لکھواکر لے جاتے اور ان کو اپنے نام سے پڑھتے اور چھپواتے ۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس دور کے بعض فلمسازوں نے ان کے گیتوں کو اپنا نام دے کر بھی فلموں میں چلایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ساغر ایک عظیم غزل گو شاعر تھا۔ممتاز شاعر ظہیر کا شمیری نے کہا تھا کہ ساغر بنیادی طور پر غزل کے میدان کا شہسوار تھا وہ جمال اور جلال دونوں کا شاعرتھا وہ مری ہوئی سماجی قوتوں کا نوحہ گر نہیں تھا نئی ابھرتی ہوئی طاقتوںکا نغمہ گر تھا۔مرزا ادیب ساغر کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں میں نے اور کسی نے بھی ساغر صدیقی کی زبان سے کوئی فحش بات نہیں سنی برابھلا کہنا وہ جانتا نہیں تھا ہر ایک سے طلب بھی کر لیتا تھا ۔ساغر کی شاعری میں زندگی اور زندگی کے تلخ رویے بہت زیادہ نمایاں ہیں ساغر نے جس طرح زندگی کواور زندگی نے جس طرح ساغر کو برتا اس نے ساغر کے لہجے میں تلخی گھول دی ۔
معروف لکھاری یونس ادیب ساغر صدیقی کے دوست تھے، مداح اور عاشق تھے۔ساغر کے کلام کو محفوظ کرنے اور شائع کروانے میں بھی یونس ادیب ہی کوششیں ہیں ورنہ ساغر کے بے نیاز رویے کی وجہ سے ایک بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ اس کی شاعری کا ایک بڑا حصہ چرالیا گیا یاسستے داموں خرید لیا گیا لیکن یہ نقصان بھی ساغر کی عظمت کو کم نہیں کر سکا۔ نامور گلوکار مہدی حسن نے ساغر کی غزل ”چراغ طور جلاؤبڑا اندھیرا ہے” گائی اس کی آواز سے یہ غزل بھارت والوں کے پاس چلی گئی۔ایک دن ساغر سوتر منڈی میں ایک پان کی دکان کے سامنے سے گزر رہا تھا تو آل انڈیا ریڈیوکے کسی سٹیشن سے کوئی گائیک اس کی یہی غزل گا رہا تھا ساغر رک گیا غزل کے اختتام پر اناؤنسر نے جب یہ کہا”ابھی آپ پاک وہند کے مشہور شاعر ساغر صدیقی کی غزل سن رہے تھے” تو ساغر نے ہنس کر کہا  واہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ ساغر کس حال میں زندہ ہے اچھا اللہ وارث ہے۔ان کے چھ مجموعے ان کی زندگی میں لاہور سے چھپے۔”غم بہار،زہرآرزو(1946ئ)،لوحِ جنون (1971ئ)،سبز گنبد اور شب آگئی(1972ء )،بہت سا کلام تو لوگوں نے اپنے ناموں سے شائع کروالیا تھا۔اکتوبر 1958ء میں جنرل محمد ایوب برسراقتدار تھے اور تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاست دان جن کی باہمی چپقلش اور رسہ کشی سے عوام تنگ آچکے تھے۔حرف غلط کی طرح فراموش کر دیے گئے۔لوگ اس تبدیلی پر واقعی خوش تھے۔ساغر نے اسی جذبے کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے،اس میں ایک مصرع تھا”کیا ہے صبر جو ہم نے،ہمیں ایوب ملا”یہ نظم جنرل محمد ایوب کی نظر سے گزری۔اس کے بعد جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اس شاعر سے ملنا چاہتا ہوں۔نفاذ قانون کے ادارے’خفیہ پولیس اور نوکر شاہی کا پورا عملہ حرکت میں آگیا اور ساغر کی تلاش ہونے لگی ۔لیکن صبح سے شام تک کی پوری کوشش کے باوجود وہ ہاتھ نہ لگے۔ان کا کوئی ٹھکانہ تو تھا نہیں،جہاں سے پکڑلاتے۔پوچھ گچھ کرتے کرتے سرشام پولیس نے اسے پان والے کی دکان کے سامنے کھڑے دیکھ لیا۔وہ پان والے سے کہہ رہا تھا کہ پان میں قوام ذرا زیادہ ڈالنا۔پولیس افسر کی باچھیں کھل گئیں۔انہوں نے قریب جا کر ساغر سے کہا کہ آپ کو حضور صدر مملک نے یاد فرمایا ہے۔ساغر نے کہا: بابا ہم فقیروں کا صدر سے کیا کام! افسر نے اصرار کیا،ساغر نے انکار کی رٹ نہ چھوڑی۔افسر بے چارا پریشان کرے تو کیا کیونکہ وہ ساغر کو گرفتار تو نہیں کر سکتا تھا اور اسے کوئی ایسی ہدایت بھی نہیں ملی تھی۔جنرل صاحب تو محض اس سے ملنے کے خواہش مند تھے اور ادھر یہ ”پگلاشاعر”یہ عزت افزائی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔اب افسر نے جو مسلسل خوشامد سے کام لیا،تو ساغر نے زچ ہو کر اس سے کہا: ارے صاحب ،مجھے گورنر ہاؤس میں جانے کی ضرورت نہیں۔وہ مجھے کیا دیں گے۔دوسو چارسو، فقیروں کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔جب وہ اس پر بھی نہ ٹلا تو ساغر نے زمین پر پڑی سگریٹ کی خالی ڈبیا اٹھا کر اسے کھولا۔جس سے اس کا اندر کا حصہ نمایاں ہو گیا خاصی بھیڑ لگ گئی تھی۔ساغر نے کسی سے قلم مانگا اور اس کاغذکے ٹکڑے پر یہ شعر لکھا:   جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی    ۔۔۔۔   اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اور وہ پولیس افسر کی طرف بڑھا کر کہا”یہ صدر صاحب کو دے دینا، وہ سمجھ جائیں گے”اور اپنی راہ چلے گئے۔جنوری1974ء میںساغر صدیقی پر فالج کا حملہ ہوا،اس کا علاج بھی چرس اور مارفیا سے کیا گیا۔فالج سے تو بہت حد تک نجات مل گئی،لیکن دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا پھر کچھ دن گزرنے کے بعد منہ سے خون آنے لگا۔اوریہ آخری دم تک جاری رہا۔ ان دنوں خوراک برائے نام تھی۔جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا تھا۔چنانچہ 19جولائی 1974ء کی صبح کے وقت اس کی لاش سڑک کے کنارے ملی اور یوں زمانے کے دکھوں کو اپنے
شعروں میں پرونے والا تمام ہوا۔اللہ انہیں غریق رحمت کرئے۔آمین
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ھے
پاگل ھے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ھے
خود اپنے ہی ھاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اب سر کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ھے
کل رات تو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دن کے اجالے میں دیا ڈھونڈ رہا ھے
اس کو تو کبھی مجھ سے محبت ہی نہیں تھی
کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈھونڈ رہا ھے
کس شہرِ منافق میں تم آ گئے ہو ساغر
اک دوجے کی ھر شخص خطا ڈھونڈ رہا ھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed