ممتاز کی ماورائے عدالت قتل رٹ ،پشاور پولیس نے تمام الزامات مسترد کر دیے

شعیب جمیل

پشاور پولیس کو 40 سنگین مقدمات میں مطلوب ممتاز عرف ممتازے کی والدہ کی جانب سے دائر رٹ پشاور پولیس نے اپنا جواب جمع کرتے ہوئے تمام الزامات کو مفروضوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے رٹ پٹیشن خارج ناقابل سماعت ہونے پر خارج کرنے کی استدعاء کی ہے۔اس حوالے سے جمع کردہ جواب میں پشاور پولیس نے موقف اپنایا کہ یہ مذکورہ رٹ درخواست ناقابل سماعت ہے کیونکہ بغیر کسی قانونی جواز اور پولیس پر الزامات لگائے گئے ہیں درخواست گزار خاتون کی جانب سے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر کے خلاف رٹ میں اپنے بیٹے ممتاز کے حوالے سے قانونی تحفظ اور پولیس کی جانب سے ممکنہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے خدشات کا اظہار کیا گیا جو صرف مفروضوں پر مبنی اور حقائق کے برعکس ۔پولیس کے مطابق رٹ میں بدنیتی کے علاوہ مذکورہ خاتون متاثرہ فریق بھی نہیں ۔پولیس پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات بے بنیاد اور بغیر کسی ثبوت کے ہیں اگر درخواست گزار خاتون کے پاس پولیس کی بدعنوانی کا کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے بصورت دیگر جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی معلومات فراہم کرنے پر ان کے خلاف پی پی سی کے دفعات 182 اور 211 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس کے مطابق خاتون کا بیٹا ‘ممتاز’ ایک بد نام زمانہ مجرم ہے جس پر 40 سے ذائد مقدمات درج ہیں لہذا خاتون کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے پر پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ اے 26 کے تحت کاروائی بھی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ کے مختلف فیصلے موجود ہیں کہ عدالتیں قیاس آرائیوں پر نہیں بلکہ ٹھوس ثبوتوں پر مبنی حقائق پر فیصلے کرتی ہیں۔ اس درخواست کو قانونی جواز نہ ہونے کی بناء پر خارج کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed