سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کی موجودہ پالیسیوں اور مرکزی لیڈرشپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پارٹی کی بڑی تنزلی قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی میں جو بزدار ماڈل لگایا ہے، اس کا پارٹی کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے، آج عمران خان کی جیل سے رہائی کی بات کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کا خاندان بھی صرف یہی اپیلیں کرتا پھر رہا ہے کہ ان کی کسی طرح ڈاکٹر سے ملاقات کروا دی جائے یا ان کا علاج کروا دیا جائے، یہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کی بہت بڑی تنزلی ہے۔سابق وزیر نے الزام لگایا کہ اس تنزلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے سختیاں جھیلیں، جیلوں میں گئے اور قربانیاں دیں، ان مخلص لوگوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا، مخلص رہنمائو ں کو پیچھے دھکیل کر پی ٹی آئی میں ایک ایسی قیادت امپورٹ کی گئی ہے جن کا ماضی میں تحریک انصاف کے نظریئے سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں تھا، تحریک تحفظ آئین جیسی پارٹی سے اتحاد بنایا گیا جس کی اصل لیڈرشپ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑی ہے۔فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے سیاسی اتحادیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پنجابیوں کی شہادتوں پر آج تک نہ تو محمود خان اچکزئی اور نہ ہی اختر مینگل کی طرف سے ایک لفظ بھی مذمت کا کہا گیا ہے، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ تحریک انصاف جیسی بڑی وفاقی جماعت کی قیادت اب ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے، جن کے وفاقِ پاکستان کے بارے میں منفی خیالات اور نظریات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔







