یمن میں سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد نے حوثی باغیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا۔جس پر سعودی اتحاد نے ردعمل دیتے ہوئے حوثیوں کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو بھرپور اور غیرمعمولی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ حوثی باغیوں کا کہنا تھا کہ کہ اگر دوبارہ یمن کی فضائی حدود میں مداخلت کی گئی یا ایرانی طیاروں کی آمد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو سعودی عرب کے ایئرپورٹس، اہم تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو یمن کی فضائی حدود میں مداخلت کی کسی بھی کوشش سے باز رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔یحیی سریع نے دعوی کیا کہ حوثیوں نے سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے یمن کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی شہری طیارے کو صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے روکنا تھا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ طیارے میں 200 سے زائد زخمی، بیمار اور مختلف وجوہات کی بنا پر پھنسے ہوئے یمنی شہری سوار تھے، جنہیں واپس وطن لایا جا رہا تھا۔دوسری جانب حوثی میڈیا نے دعوی کیا کہ طیارہ بعد ازاں تہران واپس چلا گیا، جس میں وہ حوثی وفد بھی سوار تھا جو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ ہونا چاہتا تھا۔حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے جنگجو ہر ممکن آپشن کے لیے تیار ہیں اور سعودی-امریکی محاصرے کو توڑنے کے لیے جاری کیے جانے والے احکامات پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔







