
تحریر: حمید مروت
جنوبی ایشیا ء اور جزیرہ عرب کے وسیع ریگستانوں میں، جہاں جھلسا دینے والی گرمی، شدید خشک سالی اور پانی کی قلت زندگی کو ایک مستقل امتحان بنائے رکھتی ہے، وہاں ایک درخت صدیوں سے استقامت، بقا اور زندگی کی علامت بنا کھڑا ہے۔ پروسوپس سینیریریا ، جسے اردو میں جنڈ، مروت میں ڈکئی، شمالی پشتو میں نسکورا اور سندھی میں کنڈی کہا جاتا ہے، محض ایک درخت نہیں بلکہ صحرا کی حقیقی زندگی ہے۔
یہ درخت پاکستان، بھارت، افغانستان، ایران اور جزیرہ عرب کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے جہاں اس نے صدیوں سے انسانوں، مویشیوں اور قدرتی ماحول کو سہارا دیا ہے۔ انتہائی سخت موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت نے اسے صحرا کا سب سے قیمتی درخت بنا دیا ہے۔جنڈ ایک ہمیشہ سرسبز رہنے والا درخت ہے جو موزوں حالات میں تقریبا 50 فٹ تک بلند اور چار فٹ قطر تک موٹا ہو سکتا ہے۔ اس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک جاتی ہیں، جس کی بدولت یہ طویل خشک سالی، ریت کے طوفانوں اور شدید گرمی کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف خود زندہ رہتا ہے بلکہ ریت کو بکھرنے سے بھی روکتا ہے۔جنڈ اپنی مضبوطی کے ساتھ ساتھ بے شمار معاشی اور ماحولیاتی فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔اس کی جڑیں زمین کے کٹا کو روکتی ہیں اور ریتلی مٹی کو مستحکم بناتی ہیں۔ اس کی لکڑی نہایت مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے، جو ایندھن، اعلی معیار کے کوئلے، فرنیچر، زرعی آلات اور تعمیرات میں استعمال ہوتی ہے۔صحرا میں رہنے والے چرواہوں کے لیے اس کے پتے اور پھلیاں زندگی بخش نعمت ہیں، جو سردیوں میں بکریوں، بھیڑوں، اونٹوں اور دیگر مویشیوں کی بہترین خوراک بنتی ہیں۔ اس کا گھنا سایہ انسانوں اور جانوروں دونوں کو شدید گرمی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔روایتی طب میں جنڈ کو ایک نہایت مفید درخت سمجھا جاتا ہے۔
اس کی چھال کھانسی، دمہ، جلدی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے پتے زخموں اور آنکھوں کی بعض بیماریوں کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ پھلیاں ہاضمہ بہتر بنانے اور جسم کو طاقت فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں اس کی لکڑی کی راکھ سانپ کے ڈسنے اور بچھو کے کاٹنے کے روایتی علاج میں بھی استعمال کی جاتی رہی ہے۔
خوراک بھی، چارہ بھی
جنڈ کی پھلیاں صرف مویشیوں کی خوراک نہیں بلکہ انسانوں کی غذا کا بھی اہم حصہ رہی ہیں۔

بھارت کی ریاست راجستھان میں خشک پھلیاں، جنہیں سانگری کہا جاتا ہے، مشہور روایتی صحرائی پکوان پانچ کوٹا کا بنیادی جزو ہیں، جو اپنی غذائیت اور ذائقے کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔
خطہ مروت میں یہی پھلیاں سنگرے یا شنگرے کہلاتی ہیں۔ انہیں نرم اور پکی ہوئی حالت میں شوق سے کھایا جاتا ہے، جبکہ بعد میں استعمال کے لیے خشک بھی کیا جاتا ہے تاکہ قحط یا خوراک کی قلت کے دنوں میں غذائی ضرورت پوری ہو سکے۔
سندھ میں کنڈی کے نام سے معروف اس درخت کی پھلیاں بھی انسانوں اور مویشیوں کی اضافی خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
مروت کے لوگ ڈکئی کو غیر معمولی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کی مضبوطی، افادیت اور وقار کے باعث اسے ہمالیہ کے عظیم دیودار کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں درخت نباتاتی لحاظ سے مختلف ہیں، لیکن اپنے اپنے ماحول میں دونوں عظمت، استقامت اور فیاضی کی علامت ہیں۔اس درخت کی عالمی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کا قومی درخت ہے، جہاں اسے سخت موسمی حالات میں بقا اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بھارت میں اسے راجستھان، ہریانہ اور گجرات کا ریاستی درخت قرار دیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی ماحولیاتی، معاشی اور ثقافتی اہمیت کا اعتراف ہے۔
تحفظ وقت کی ضرورت
آج جب موسمیاتی تبدیلی اور صحرائی پھیلا دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جنڈ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ درخت بنجر زمینوں کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشی پالنے والوں کی معیشت اور دیہی زندگی کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جس طرح دیودار ہمالیہ کی شان ہے، اسی طرح جنڈ، ڈکئی یا کنڈی صحرا کی روح ہیایک ایسا درخت جو صدیوں سے زندگی، استقامت، سخاوت اور امید کی علامت بنا ہوا ہے۔







