پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس کے اجرا اور تجدید کی فیسوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے 34 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔یہ فیصلہ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان نے جاری کیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حکومتی پالیسی معاملات میں عدالتی مداخلت محدود ہوتی ہے ، عدالت صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب غیر قانونی عمل یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو ، موجودہ کیس میں ایسا کوئی پہلو ثابت نہیں ہوا۔درخواست گزاروں جن میں خیبرپختونخوا رائفل ایسوسی ایشن بھی شامل تھی، نے مقف اختیار کیا کہ اسلحہ لائسنس فیسوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ غیر قانونی ہے ، کے پی آرمز ایکٹ 2013 کو ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تیمور خان کے مطابق کے پی آرمز ایکٹ 2013 اور رولز 2014 حکومت کو اختیار دیتے ہیں ، حکومت لائسنسنگ نظام اور فیسوں کا تعین کر سکتی ہے ، جبکہ اس میں اضافہ کابینہ کی منظوری سے کیا گیا، اس لیے قانونی ہے ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسلحہ لائسنس صرف انتظامی نہیں بلکہ عوامی تحفظ سے جڑا معاملہ ہے ، ریاست کو اسلحہ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں ، لائسنسنگ نظام مزید سخت کیا جانا چاہیے۔







