دریائے کابل پر ڈریگن بوٹ فیسٹیول: پاک چین دوستی کا نیا ثقافتی سنگِ میل

دریائے کابل پر ڈریگن بوٹ فیسٹیول: پاک چین دوستی کا نیا ثقافتی سنگِ میل

رپورٹ: عدنان بشیر خان
تصاویر؛احتشام الرحمان

 

دریائے کابل کے پانیوں پر 14 جون 2026 کو سردریاب، چارسدہ کے مقام پر منعقد ہونے والا ڈریگن بوٹ فیسٹیول صرف ایک کھیلوں یا ثقافتی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ پاک چین دوستی، عوامی رابطوں، ثقافتی سفارت کاری اور ادارہ جاتی تعاون کا ایک خوبصورت اور تاریخی مظاہرہ تھا۔ چائنہ ونڈو پشاور کے زیر اہتمام خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ڈریگن بوٹ فیسٹیول تھا، جس نے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کو ایک نیا اور یادگار رنگ دیا۔
ڈریگن بوٹ فیسٹیول چین کی قدیم ترین ثقافتی روایات میں سے ایک ہے۔ دو ہزار سال سے زائد تاریخ رکھنے والا یہ تہوار چین میں دوان وو فیسٹیول کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہر سال چینی قمری کیلنڈر کے پانچویں مہینے کے پانچویں دن منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار چینی شاعر، مدبر اور وفاداری و قربانی کی علامت چو یوان کی یاد سے منسوب ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تہوار چین کی ثقافتی شناخت، قومی وحدت، ٹیم ورک، نظم، حوصلے اور اجتماعی کوشش کی علامت بن چکا ہے۔ یونیسکو نے بھی 2009 میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کو انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا، جو اس کی عالمی ثقافتی اہمیت کا اعتراف ہے۔اسی قدیم اور بامعنی چینی روایت کو پاکستان میں متعارف کرانے کا فیصلہ چائنہ ونڈو پشاور نے تقریبا چھ ماہ قبل کیا۔ مقصد صرف ایک کشتی رانی مقابلہ منعقد کرنا نہیں تھا بلکہ چین کی ایک معروف ثقافتی روایت کو پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کرنا، دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانا، خیبر پختونخوا کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنا اور پاک چین دوستی کو عوامی سطح پر مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور تیاریوں کا ایک مسلسل سلسلہ شروع ہوا۔

 


یہ سفر آسان نہیں تھا۔ چائنہ ونڈو نے چین سے اصل ڈریگن ہیڈز اور ٹیلز بروقت منگوائے تھے، مگر آبنائے ہرمز کی بندش اور تعطل کے باعث وہ سامان وقت پر پاکستان نہ پہنچ سکا۔ ایسے موقع پر تقریب کو ملتوی یا محدود کرنے کے بجائے چائنہ ونڈو نے مقامی سطح پر حل تلاش کیا۔ ادارے کے محنتی سٹاف ممبر محمد جاوید نے مسلسل تین دن اور راتیں کام کر کے خوبصورت تھری ڈی ڈریگن ہیڈز اور ٹیلز تیار کئے۔ ان کی محنت نے کشتیوں کو ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی اصل روح اور علامتی خوبصورتی عطا کی۔دوسرا بڑا چیلنج دریائے کابل کا تیز بہا ؤتھا۔ سردریاب کے مقام پر پانی کی رفتار اور دریا کی کیفیت کے باعث حفاظتی انتظامات سب سے اہم تھے۔ تفصیلی منصوبہ بندی، ریسکیو انتظامات اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت کے بعد منتظمین نے ہر ممکن احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ پاکستان میں روایتی ڈریگن بوٹس دستیاب نہیں تھیں، اس لیے مقامی کشتیوں کو ضروری تبدیلیوں کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار کیا گیا۔ ہر کشتی کا معائنہ کیا گیا، حفاظتی پہلوں پر غور کیا گیا اور ریسکیو 1122 کو ابتدا ہی سے اعتماد میں لیا گیا۔تقریب کی تاریخ کا انتخاب بھی نہایت اہم تھا۔ 14 جون کو اس لئے حتمی شکل دی گئی کہ 15 جون کے بعد موسمی سیلاب متوقع تھا، جس کے باعث کم از کم دو ماہ تک ایسی تقریب کا انعقاد ممکن نہ رہتا۔ اس لحاظ سے وقت، موسم، دریا کی کیفیت، حفاظتی انتظامات اور انتظامی تعاون سب کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا گیا۔

 

چائنہ ونڈو نے اس فیسٹیول کے لئے کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر چارسدہ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ، ریسکیو 1122، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ متعدد اجلاس کئے۔ پولیس نے مقام، داخلی و خارجی راستوں، مہمانوں کی آمد و رفت، پارکنگ، ہجوم کے انتظام اور دریا کے کنارے عوام کی محفوظ موجودگی کے حوالے سے منصوبہ بندی کی۔ ریسکیو 1122 کو کشتیوں، غوطہ خوروں، لائف سیونگ آلات، ایمبولینسوں اور طبی امداد کے ساتھ موقع پر موجود رہنے کی درخواست کی گئی۔ شرکا کے لئے لائف جیکٹس خریدی گئیں اور کسی بھی کشتی ران کو حفاظتی سامان کے بغیر کشتی میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس تاریخی فیسٹیول کی کامیابی میں خیبر پختونخوا حکومت کے اداروں کا تعاون نمایاں رہا۔ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے فیسٹیول کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے چائنہ ونڈو کے ساتھ شراکت داری کی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے بھی بھرپور تعاون فراہم کیا۔ وزیر اعلی کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند نے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کو فعال معاونت کی ہدایت کی، جس سے انتظامات کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملی۔ اس تعاون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ثقافتی تبادلے، کھیلوں کے فروغ اور پاک چین دوستی کو اہمیت دیتی ہے۔

 


فیسٹیول کے لئے رجسٹریشن کا عمل گوگل فارم کے ذریعے شروع کیا گیا تاکہ شرکت کا طریقہ شفاف اور منظم رہے۔ تقریبا بیس دن جاری رہنے والے اس عمل میں 114 افراد نے خود کو رجسٹر کیا۔ 13 جون کو سردریاب میں مکمل ریہرسل منعقد کی گئی، جس میں 90 کشتی رانوں نے آٹھ کشتیوں میں حصہ لیا۔ زیادہ تر شرکا پہلی بار ڈریگن بوٹ ریسنگ کا تجربہ کر رہے تھے، اس لیے انہیں حفاظتی اصولوں، کشتی رانی کے نظم، ٹیم ورک، کشتی کی حرکت اور ریس کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ اس ریہرسل نے منتظمین کو ٹیموں کو حتمی شکل دینے، دریا کی صورتحال کا جائزہ لینے اور عملی انتظامات کو پرکھنے کا موقع دیا۔فیسٹیول کے روز مقامی کشتی بانوں اور کشتی رانوں کی بڑی تعداد بھی سردریاب پہنچی اور انہیں مقابلے میں شامل کیا گیا۔ ہر کشتی میں چھ کشتی ران، ایک ڈھولچی اور ایک تجربہ کار کشتی ماہر شامل تھا۔ ڈھولچی کی موجودگی نے فیسٹیول کی روایتی چینی روح کو زندہ کیا، جبکہ تجربہ کار کشتی بان نے حفاظت اور تکنیکی رہنمائی کو یقینی بنایا۔ دو ریسیں منعقد ہوئیں، جن میں آٹھ آٹھ کشتیوں نے حصہ لیا، اور بعد ازاں آٹھ کشتیوں کو فائنل رانڈ میں شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ ابتدا میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کے لیے ٹرافیاں دینے کا منصوبہ تھا، تاہم شرکا کی حوصلہ افزائی اور ان کی جرات کو سراہنے کے لیے تمام ٹیموں کو مشترکہ فاتح قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے نے فیسٹیول کی اصل روح یعنی دوستی، شرکت، ٹیم ورک اور ثقافتی ہم آہنگی کو نمایاں کیا۔

 

 

 


تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ثقافت و سیاحت ملک عدیل اقبال تھے۔ دو صوبائی وزرا کء فضل شکور خان اور اافتخار اللہ جان کی شرکت نے بھی فیسٹیول کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ چائنہ ونڈو کے ایڈمنسٹریٹر امجد عزیز ملک نے اپنے خطاب میں اس فیسٹیول کو پاک چین دوستی کی تاریخ کا ایک قابل فخر لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈریگن بوٹ فیسٹیول محض کھیل یا ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی، باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کا اظہار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین دوستی 75 برسوں میں ہر آزمائش سے گزرتے ہوئے مزید مضبوط ہوئی ہے اور اب یہ دوستی حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں بھی گہری جڑیں رکھتی ہے۔ امجد عزیز ملک نے چائنہ ونڈو کو پاکستان اور چین کے درمیان ایک ثقافتی پل قرار دیا، جو عوامی روابط، ثقافتی تبادلے، چینی تاریخ، ثقافت، ترقی اور سی پیک کے بارے میں آگاہی کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، سپورٹس ڈائریکٹوریٹ، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122، میڈیا، رضاکاروں، مقامی کشتی بانوں، شرکا اور چائنہ ونڈو کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانہ پاکستان کے کلچرل قونصلر عزت مآب جناب چن پنگ کی حوصلہ افزائی اور اعتماد کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔
مہمان خصوصی ملک عدیل اقبال نے اپنے خطاب میں چائنہ ونڈو کو پاکستان میں پہلی بار ڈریگن بوٹ فیسٹیول منعقد کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول دو ہزار سال سے زائد تاریخ، حب الوطنی، ثقافتی ورثے، قومی اتحاد، نظم اور ٹیم ورک کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح ڈریگن بوٹ میں تمام کشتی ران ایک ہی تال میں چپو چلاتے ہیں، اسی طرح اقوام کو بھی ترقی کے لیے اتحاد، تعاون اور مشترکہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے سیاحتی اور ثقافتی امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بین الاقوامی ثقافتی سرگرمیاں صوبے کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہیں۔

 

اس فیسٹیول کی ایک بڑی کامیابی اس کی بھرپور میڈیا کوریج تھی۔ قومی ٹی وی چینلز، اخبارات، نیوز ایجنسیاں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا پیجز، فوٹوگرافرز اور وی لاگرز نے اس تاریخی تقریب کو نمایاں جگہ دی۔ رنگ برنگی کشتیوں، ڈھول کی آواز، پاکستان اور چین کے پرچموں، دریائے کابل کے خوبصورت منظر، کشتی رانوں کے جوش اور عوامی شرکت نے اس فیسٹیول کو غیر معمولی بصری اور خبری اہمیت دی۔ اخبارات نے اسے پاکستان کا پہلا ڈریگن بوٹ فیسٹیول، دریائے کابل پر ایک تاریخی سرگرمی اور پاک چین دوستی کا نیا باب قرار دیا۔ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پیغام پاکستان سے باہر بھی پہنچا، جس سے فیسٹیول کا مثبت تاثر مزید وسیع ہوا۔عوامی شرکت بھی نہایت حوصلہ افزا رہی۔ بڑی تعداد میں لوگ سردریاب پہنچے اور انہوں نے پہلی بار پاکستانی سرزمین پر ایک چینی ثقافتی روایت کو براہ راست دیکھا۔ سرکاری نمائندوں، کھیلوں کی ٹیموں، طلبہ، میڈیا، ثقافتی فنکاروں، مقامی کشتی بانوں، رضاکاروں اور خاندانوں کی موجودگی نے اسے ایک بھرپور عوامی تقریب بنا دیا۔ مقامی کشتی بانوں کی شمولیت نے چینی روایت کو پاکستانی دریائی ثقافت سے جوڑ دیا اور اس فیسٹیول کو مقامی
سطح پر قبولیت اور شناخت دی۔

 


ڈریگن بوٹ فیسٹیول نے پاکستان میں چین کا مثبت ثقافتی تاثر بھی اجاگر کیا۔ عوام نے چین کو صرف معاشی طاقت یا اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیب کے طور پر دیکھا جس کی تاریخ، روایات، رنگارنگ تہوار اور سماجی اقدار گہری ہیں۔ یہ فیسٹیول اس بات کا ثبوت تھا کہ ثقافت قوموں کے درمیان فاصلے کم کرتی ہے، دلوں کو قریب لاتی ہے اور دوستی کو عوامی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
یہ فیسٹیول مستقبل کے لیے کئی امکانات بھی چھوڑ گیا ہے۔ اسے خیبر پختونخوا میں سالانہ ثقافتی اور کھیلوں کی تقریب بنایا جا سکتا ہے۔ آئندہ برسوں میں بہتر ڈریگن بوٹس، مضبوط حفاظتی انتظامات، وسیع ٹیم شرکت، ثقافتی پرفارمنس، فوڈ سٹالز، نمائشوں اور سیاحتی سرگرمیوں کے ساتھ اسے مزید جامع بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈریگن بوٹ ریسنگ کو ایک نئے واٹر سپورٹ کے طور پر بھی فروغ دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں دریا اور جھیلیں موجود ہیں۔ چین کے ساتھ تربیتی پروگرام، کوچنگ سیشنز، تبادلہ دورے اور تکنیکی رہنمائی اس کھیل کے فروغ میں مدد دے سکتے ہیں۔تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کو بھی آئندہ فیسٹیولز کا اہم حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کھیلوں کے کلبوں اور نوجوانوں کی تنظیموں کی شمولیت سے یہ فیسٹیول نئی نسل تک پاک چین دوستی کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ چینی زبان، کھیل، سیاحت اور میڈیا کے طلبہ کے لیے یہ ایک عملی تعلیمی اور ثقافتی تجربہ بن سکتا ہے۔
دریائے کابل پر منعقد ہونے والا ڈریگن بوٹ فیسٹیول اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ ثقافتی سفارت کاری صرف سرکاری بیانات اور رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں۔ یہ عوامی شرکت، مشترکہ تجربات، کھیل، ثقافت، میڈیا اور جذباتی وابستگی کے ذریعے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنتی ہے۔ چائنہ ونڈو پشاور نے اس فیسٹیول کے ذریعے پاک چین دوستی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخی اقدام کو سالانہ روایت میں تبدیل کیا جائے تاکہ دریائے کابل کے پانیوں پر دوستی، ثقافت اور تعاون کا یہ سفر ہر سال نئے جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed