فٹ نوٹس عدالتی فیصلوں کا حصہ ،اشاعت میں شامل ہونا ضروری ہے،پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالتی فیصلوں میں شامل فٹ نوٹس بھی فیصلے کا باقاعدہ حصہ ہیں اور کسی بھی ناشر یا الیکٹرانک ڈیٹا بیس کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدالتی فیصلے مکمل اور اصل شکل میں، فٹ نوٹس سمیت، شائع کرے۔ یہ فیصلہ بیرسٹر اسدالملک کی جانب سے دائر عوامی مفاد کی رٹ درخواست پر جاری کیا گیا۔رٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی ایل ڈی پبلشرز اور اس کے زیر انتظام الیکٹرانک ڈیٹا بیس بعض اوقات رپورٹ شدہ فیصلوں کے فٹ نوٹس حذف کرکے انہیں نامکمل انداز میں شائع کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس بابر ستار نے تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے، 18 اور 19-اے کے تحت شہریوں کو منصفانہ سماعت، معلومات تک رسائی اور پیشہ ورانہ حقوق حاصل ہیں، اس لیے درخواست قابل سماعت ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ رپورٹنگ اور اشاعت کے لیے منظور شدہ عدالتی فیصلوں کو مکمل، درست اور بغیر کسی تبدیلی کے شائع کرنا لازم ہے کیونکہ یہ فیصلے قانونی نظائر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عدالت نے الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی دستاویز کی الیکٹرانک صورت کی قانونی حیثیت کے لیے اس کی اصل شکل برقرار رہنا ضروری ہے اور فٹ نوٹس حذف کرنا اس اصول کے خلاف ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے تمام پبلشرز اور الیکٹرانک ریپوزٹریز کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی فیصلوں کی مکمل اور غیر ترمیم شدہ نقول عوام کو فراہم کریں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کسی عدالتی فیصلے میں ردوبدل یا جعل سازی ثابت ہو جائے تو متعلقہ افراد کے خلاف پیکا، پاکستان پینل کوڈ اور دیگر قوانین کے تحت فوجداری اور دیوانی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کو دستیاب تمام عدالتی فیصلے مکمل، درست اور مستند شکل میں فراہم کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed