خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے 4 دنوں میں 572 مراکز کا معائنہ کیا اور اس دوران 99 طبی مراکز سیل کر دیئے، جبکہ 241 کو قانونی نوٹس جاری کر دیئے گئے۔خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق صرف چار دنوں میں پشاور، سوات، صوابی، مالاکنڈ، مانسہرہ، کوہاٹ، کرک، ہری پور، چارسدہ، بونیر، ایبٹ آباد، بنوں اور دیر اپر و لوئر میں 572 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا۔عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے انسپیکشنز کے دوران 99 طبی مراکز مختلف خلاف ورزیوں کی بنیاد پر سیل کر دیے گئے جبکہ 241 مراکز کو قانونی ہدایت جاری کی گئی۔ تمام کارروائیاں خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015 اور اینٹی کویکری ریگولیشنز 2022 کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات عوام کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر مجاز طبی مرکز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔







