آئندہ مالی سال 27-2026کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں وزارت قانون و انصاف کے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 2 ارب 40 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق وزارت قانون و انصاف کے 14 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 13 ارب 45 کروڑ 67 لاکھ روپے ہے،ان میں 11 جاری اور 3 نئے منصوبے شامل ہیں۔جاری منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 1 ارب 38 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں قانونی سہولت مرکز کے قیام کیلئے 22 کروڑ 83 لاکھ روپے، سیکٹر جی-10/1 اسلام آباد میں مقدمات کے سہولت مراکز کی تعمیر کیلئے 26 کروڑ 17 لاکھ روپے، سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کوئٹہ کیلئے کیمپ آفس کی تعمیر کیلئے 22 کروڑ 66 لاکھ روپے اور وفاقی عدالتی نظام کی آٹومیشن کیلئے ایک کروڑ 67 لاکھ روپے شامل ہیں۔اسی طرح وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے قانونی ونگز کو مضبوط بنانے کیلئے 5 کروڑ روپے، وزارت قانون کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور آرکائیونگ کیلئے ایک کروڑ 22 لاکھ روپے جبکہ پشاور میں وفاقی شرعی عدالت کے کیمپ آفس کی تعمیر کیلئے 3 کروڑ 91 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق کراچی میں عدالتوں اور ٹربیونلز کی تعمیر کے منصوبے کیلئے 20 کروڑ روپے جبکہ سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کراچی کی توسیع کیلئے 29 کروڑ 5 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔پی ایس ڈی پی میں وزارت قانون و انصاف کے تین نئے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں جن کیلئے مجموعی طور پر ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،ان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئے 70 کروڑ 30 لاکھ روپے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سرکاری رہائش گاہ کے تعمیراتی منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کیلئے 2 کروڑ روپے اور وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق وزارت قانون و انصاف کے منصوبوں پر 30 جون 2026 تک 59 ارب 91 کروڑ 24 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر مزید 73 ارب 54 کروڑ 22 لاکھ روپے خرچ ہونا باقی ہے۔







