گوادر کے مغربی ساحل میں جگہ جگہ سیاہی مائل اشیا نمودار

مکران کی ساحلی پٹی پر خام تیل پھیل گیا، جس کے باعث کوئی بڑا آبی جہاز یا آئل ٹینکر حادثے کا شکار ہو کر ٹوٹنے یا ڈوبنے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق سمندری آلودگی کے ہولناک اور سنگین اثرات مکران کے ساحل پر نمودار ہونا شروع ہو گئے ، گوادر شہر کے مغربی ساحل پر کئی کلومیٹر پر مشتمل ساحلی پٹی پر جگہ جگہ سیاہی مائل اور لیس دار اشیا پھیل گئی ہیں، جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور ماہی گیروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ماہرینِ ماحولیات اور سمندری امور نے ابتدائی معائنے کے بعد ان سیاہ اشیا کو پٹرولیم کا خام مال قرار دیا ہے۔سمندری ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کھلے اور گہرے سمندر میں خام تیل سے بھرا ہوا کوئی بڑا آبی جہاز یا آئل ٹینکر حادثے کا شکار ہو کر ٹوٹ یا ڈوب گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی موجودہ انتہائی کشیدہ صورت حال کی وجہ سے آبنائے ہرموز کے علاقے میں کسی تیل کے جہاز کو حادثہ پیش آیا ہو سکتا ہے، جہاں سے بہنے والا لاکھوں گیلن خام تیل سمندری لہروں کے دوش پر بہتا ہوا اب مکران اور گوادر کے ساحلوں تک پہنچ چکا ہے۔مقامی ماہی گیروں اور سمندری ماہرین نے ساحل پر بکھرے اس خام تیل کو سمندری حیات اور مقامی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ اور سخت نقصان دہ قرار دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی اس کالی اور لیس دار تہہ کے باعث پانی میں آکسیجن کی سپلائی معطل ہو جائے گی، جس سے مچھلیاں، نایاب مرجانی چٹانیں اور دیگر آبی مخلوق بڑے پیمانے پر ہلاک ہو سکتی ہیں۔ساحل پر موجود اس زہریلے مواد سے مچھلیوں کی افزائشِ نسل شدید متاثر ہو گی جبکہ مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کا حصول اور مچھلیاں پکڑنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed