فلپائن میں 7.8شدت کے طاقتورترین زلزلے سے کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں،حکام کا کہنا ہے کہملبے میں اب بھی لوگ دبے ہو سکتے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کی صبح سات بج کر 37 منٹ پر منڈانا کے علاقے میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 تھی، جس سے تین فٹ اونچی سونامی کی لہریں بھی پیدا ہوئیں۔پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد سونامی کے خطرات قریبا ختم ہو گئے ہیں، تاہم جو لہریں پیدا ہوئیں ان سے ابھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے ڈائریکٹر ٹیریسٹو بیلکولکول نے کہا کہ یہ ایک بڑا زلزلہ ہے اور نقصانات متوقع ہیں کیونکہ ایسی کئی ویڈیوز سامنے آچکی ہے جن میں متاثرہ عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔اس کو رواں سال فلپائن میں آنے والے زلزلوں میں سے سب سے زیادہ شدید قرار دیا جا رہا ہے اور اس کا مرکز سمندر میں 33 کلومیٹر ( 20 میل) گہرائی میں تھا جو ماسم نامی علاقے سے تقریبا 32 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔دوسرے علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ کافی شدید تھا اور دور دور تک جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں حرکت میں آ چکی ہے اور مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہیں۔ جنرل سینٹوس جنوبی فلپائن کا ایک اہم بندرگاہی شہر ہے جس کی آبادی سات لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہ شہر مچھلی کی برآمد اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر کا کہنا ہے کہ حکومت پوری طرح متحرک ہے اور مِنڈانا کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق اس کے بعد متعدد بار آفٹرشاکس ملائیشیا میں بھی محسوس کیے گئے جبکہ ملائیشیا اور انڈونیشیا میں سونامی کی چھوٹی لہریں دیکھی گئیں تاہم کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔رپورٹس کے مطابق جنرل سینٹوس میں کم سے کم سات ہلاک اور 130 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔محکمہ شہری دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ چند چھوٹی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہوئیں جبکہ کئی عمارتوں اور ایک اہم رابطہ پل میں خطرناک دراڑیں پڑ گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ سینٹوس میں ایک سکول کی عمارت بھی گری اور اس کے مبلے میں کچھ طلبہ دبے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا اور مزید تفصیل فراہم نہیں کی پولیس کے مطابق قصبے میں کم سے کم سات افراد لاپتہ ہیں۔موسم گرما کی تعطیلات کے بعد پیر کو سکول دوبارہ کھلے تھے اور جب زیادہ تر سکولوں میں پرچم کشائی کی تقریب ہو رہی تھی اس وقت زلزلہ آیا جس سے 100 سے زائد طلبہ کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ خوف کی وجہ سے بعض طلبہ بے ہوش بھی ہوئے۔







