اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ ادارہ دیوالیہ پن کی دوڑ میں داخل ہو چکا ہے اور اگست کے وسط تک عالمی ادارے کے پاس نقد رقم ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سب سے بڑے مالی معاونین امریکا اور چین اپنی واجب الادا رقوم کی ادائیگی میں تاخیر یا اسے روک رہے ہیں جس سے ادارے کی مالی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ امریکا نے اربوں ڈالر کی ادائیگیاں نہیں کیں اور متعدد اقوام متحدہ پروگرامز اور ایجنسیوں، بشمول عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کی ہے، اس وقت امریکا پر اقوام متحدہ کے تقریبا 4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔دوسری جانب چین نے بھی ادائیگیوں میں تاخیر کر کے مالی بحران کو مزید سنگین بنایا ہے۔ چین نے حالیہ دنوں میں تقریبا 850 ملین ڈالر ادا کیے تاہم اس کے باوجود اس پر 455 ملین ڈالر باقی ہیں۔ اقوام متحدہ کی بنیادی فنڈنگ کا تقریبا 42 فیصد امریکا اور چین سے حاصل ہوتا ہے جس کے باعث ان دونوں ممالک کی ادائیگیوں میں خلل ادارے کے لیے شدید خطرات پیدا کررہا ہے۔ مالی بحران کے باعث 3 ہزار ملازمتیں ختم اور کئی دفاتر بند ہوچکے ہیں جب کہ اسی طرح امن مشنز متاثر اور فوج فراہم کرنے والے ممالک کو ادائیگیاں موخر کردی گئی ہیں۔







