ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا۔ جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی۔ ان کا یہ بیان اماراتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں سامنے آیا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا۔انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے مقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے۔ جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانائی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنی کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔







