شہری کی غیر قانونی حراست ‘ آئی جی پی کو انکوائری کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے تھانہ انقلاب پولیس کی جانب سے ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی)خیبر پختونخوا کو معاملے کی شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزارہ اور مبینہ مغوی شہری امین اکبر دوران سماعت عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کو درخواست گزارہ اور متاثرہ شہری کی جانب سے سابق ایس ایچ او تھانہ انقلاب احمد جان اور دیگر اہلکاروں کے خلاف تحریری درخواست بھی جمع کرائی گئی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سابق ایس ایچ او پر شہری کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، غیر قانونی حراست میں رکھنے اور بھتہ طلب کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ایس ایچ او کے خلاف براہ راست ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پہلے شفاف انکوائری کرائی جائے۔ اس سلسلے میں آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایت کی گئی ہے کہ انکوائری کے لیے ایک سینئر اور نیک نام افسر مقرر کیا جائے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور اگر کوئی اصل ذمہ دار ہو تو اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے حکم دیا کہ ایک ماہ کے اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مقررہ وقت میں رپورٹ جمع کرانے کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ مزید سماعت 22 جون تک ملتوی کردی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed