شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے پولیس حکام کو زیر التوا دیوانی مقدمات میں مداخلت سے روک دیا اور قرار دیا کہ سول کیسز عدالت میں زیر سماعت ہوں تو پولیس خود سے اس میں فیصلے نہیں کرسکتی۔عدالت عالیہ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار صفت اللہ خان نے رٹ میں موقف اختیار کیا کہ اس سول کورٹ میں مقدمہ زیر التوا ہے،پولیس مذکورہ مقدمے میں بے جا مداخلت کر رہی ہے اور درخواست گزار کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ان پر راضی نامہ کیلئے دباو ڈال رہی ہے۔وکیل شفقت اللہ نے بتایاکہ پولیس مختلف علاقوں میں زمین کے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے مقامی سطح پر جرگے منعقد کررہی ہے اور متاثرین پر تنازعہ ختم کرنے کیلئے دباو ڈال رہی ہے جو غیر قانونی ہے۔اس ضمن میں تھانہ گلبہار پولیس افسران اور سی سی پی او پشاور کو ایک درخواست دی گئی جس پر اسکے موکل کیخلاف قانونی کارروائی کی گئی ۔عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا اورقراردیاکہ عدالت میں زیر سماعت دیوانی مقدمات میں پولیس کی مداخلت اختیارات سے تجاوز ہے کیونکہ سول کیسز عدالت میں زیر سماعت ہوں تو پولیس خود سے اس میں فیصلے نہیں کرسکتی۔فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض سرانجام دینے کے پابند ہیں، اگر کوئی علیحدہ درخواست آئے تو پھر پولیس اس میں کارروائی کرسکتی ہے۔بعدازاں عدالت نے درخواست گزار کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں قانون اپنا راستہ لے گی۔







