وفاقی آئینی عدالت نے 9 اور 10 مئی کے جلا گھیرا اور پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو کیسز کو واپس لینے سے روک دیا ہے۔عدالت نے ریڈیو پاکستان کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔حکم جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کنسٹی ٹیوشنل پٹیشن نمبر 2 آف 2026 کی سماعت کے دوران جاری کیا۔سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ریڈیو پاکستان ان مقدمات میں ایک متاثرہ فریق ہے کیونکہ اس کے گواہان پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں شامل ہیں۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ خیبر پختونخوا کی کابینہ کمیٹی نے 18 نومبر 2025 کو ایڈووکیٹ جنرل کی سفارش پر 9 اور 10 مئی سے متعلق تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم، درخواست گزار کے مطابق صوبائی حکومت میں شامل بعض بااثر شخصیات خود ان مقدمات میں نامزد ملزمان ہیں، جس کے باعث استغاثہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر کام نہیں کر پا رہا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان مقدمات کو خیبر پختونخوا حکومت کے ممکنہ اثر و رسوخ سے بچانے کے لیے اسلام آباد یا پنجاب کی کسی عدالت میں منتقل کیا جائے، تاکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ ٹرائل یقینی بنایا جا سکے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت پراسیکیوشن کو عدالتوں سے مذکورہ مقدمات واپس لینے سے روک دیا گیا ہے۔عدالت نے مزید سماعت کے لیے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں تاکہ ان سے تفصیلی جواب طلب کیا جا سکے۔یہ مقدمات تھانہ ایسٹ کینٹ پشاور میں درج ایف آئی آر نمبر 221/2023 سے متعلق ہیں، جن میں دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ حکم آئندہ سماعتوں میں کیس کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ مقدمات کی ممکنہ منتقلی اور شفاف ٹرائل کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے ۔







