کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی خیبر پختونخوا کمیٹی کا ایک اہم ہنگامی اجلاس گزشتہ روز پشاور میں چیئرمین طاہر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا سے شائع ہونے والے قومی و علاقائی اخبارات کے مدیران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے اخبارات کو درپیش مالی، انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ خصوصاً محکمہ اطلاعات کی جانب سے اشتہارات کی مد میں طویل عرصے سے واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے اخبارات کے بقایاجات کی وصولی کے لیے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی مسلسل جدوجہد، حکومتی سطح پر موثر رابطوں اور پشاور ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن کو بھرپور انداز میں سراہا۔ مدیران کا کہنا تھا کہ سی پی این ای کی سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے کئی برسوں سے التوا کا شکار بقایاجات کی مرحلہ وار ادائیگی کا اعلان کیا ہے، جو علاقائی صحافت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس موقع پر سی پی این ای خیبر پختونخوا کمیٹی کے چیئرمین طاہر فاروق نے شرکاء کو اس سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ ہونے والی ملاقات، صوبائی مشیر اطلاعات سے سی پی این ای کے مرکزی رہنما اور سابق سیکرٹری جنرل اعجاز الحق کی تفصیلی نشست، اور ان رابطوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس کو سیکرٹری اطلاعات مطیع اللہ خان کے ساتھ ہونے والی ملاقتوں کی تفصیلات بھی بتائی گئیں، جس میں بقایاجات کی ادائیگی کے مجوزہ میکنزم پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کا نظام مکمل شفافیت پر مبنی ہو، آئی این ایف نمبرز کے مطابق ہو، اور بل ٹو بل بنیادوں پر ترتیب دیا جائے تاکہ تمام اخبارات کو ان کا حق بروقت اور منصفانہ انداز میں مل سکے۔ شرکا نے اس امر کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ محکمہ اطلاعات، دیگر صوبائی محکموں اور اخبارات کے درمیان مستقل حساب فہمی کا نظام قائم کیا جائے اور ہر ماہ بنیادوں پر ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں مالی بحران کی کیفیت پیدا نہ ہو۔مدیران نے کہا کہ اشتہارات کی رقوم کی مسلسل تاخیر نے خیبر پختونخوا کے علاقائی اخبارات کو شدید مالی دبائو میں مبتلا کر دیا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود یہی اخبارات صوبے کے دور افتادہ علاقوں کی آواز بنے ہوئے ہیں، مگر مالی عدم استحکام کے باعث ان کیلئے ادارہ جاتی بقا کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ اجلاس میں اس صورتحال کو علاقائی صحافت کیلئے تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں ممتاز صحافی اور مدیر روزنامہ کسوٹی امجد عزیز ملک کو انٹرنیشنل اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا تاحیات رکن منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی گئی اور اسے خیبر پختونخوا کی صحافتی برادری کیلئے ایک بڑا اعزاز قرار دیا گیا۔ شرکا ء نے اس کامیابی کو صوبے کے صحافیوں کی عالمی سطح پر نمائندگی کیلئے خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔اجلاس میں روزنامہ الجمعیت سرحد کے ایڈیٹر سید علی نواز گیلانی مرحوم کی گرانقدر صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ مرحوم نے علاقائی صحافت کے فروغ، اصولی صحافتی روایات کے استحکام اور صحافی برادری کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اجلاس میں ان کی یاد میں عنقریب ایک تعزیتی و تعریفی ریفرنس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ ان کی خدمات کو باضابطہ طور پر خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں تنویر صدیقی(مدیر روزنامہ آج)، شاہد حمید(مدیر روزنامہ ایکسپریس)، مسعود خان(مدیر روزنامہ ریاست)، سلمان ثناء اللہ(دیر روزنامہ فرنٹیئر سٹار)، لیاقت یوسفزئی(مدیر روزنامہ سرخاب)، قیصر رضوی(مدیر روزنامہ جدت)، اشرف ڈار(مدیر روزنامہ عوام الناس)، امجد عزیز ملک(مدیر روزنامہ کسوٹی)، فضل حق(مدیر ڈیلی ٹائمز)، ظاہر شاہ شیرازی(مدیر روزنامہ نوائے پاکستان)، وزیرزادہ(مدیر روزنامہ انتباہ)اور ارشد خان(مدیر روزنامہ عدن و روزنامہ الجمعیت سرحد)نے شرکت کی۔







