پشاور ہائیکورٹ نے 8سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے مائنز اینڈمنرل ڈیپارٹمنٹ کے آفسر کو بنولنٹ فنڈ نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر برہمی کا اظہار کیا اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ اگر غفلت برتنے والے کسی ایک آفیسر کے خلاف بھی کارروائی ہوتی تو مسائل اتنے نہیں بڑھتے سارا نظام اللہ کی قدرت پر چل رہا ہے افسران کچھ نہیں کر رہے کسی افسر کے خلاف کاروائی نہیں ہورہی جس سے نظام مزید خراب ہورہا ہے ۔ رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار انجنئیر شیدا خان محمد کے وکیل شاہ فیصل ناساپی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ سے ڈپٹی ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تھے اور 2018 میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں تاہم ابھی تک درخواست گزار کو بنولنٹ فنڈ جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے اس حوالے سے تمام متعلقہ فورم پر رجوع کیا ہے تاہم 8 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک فنڈز جاری نہیں کررہے متعلقہ افسران لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں درخواست گزار کو مشکلات کا سامنا ہے متعلقہ فورم سے مایوس ہونے کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے ۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ سارا نظام اللہ کی قدرت پر چل رہا ہے افسران کچھ نہیں کرہے،کسی آفیسر کے خلاف کاروائی نہیں ہورہی، جس سے نظام مزید خراب ہورہا ہے،کسی ایک افسر کے خلاف بھی کارروائی ہوتی تو مسائل اتنے نہیں بڑھتے، سرکاری افسر کی غلطی کا خمیازہ درخواست گزار کیوں بھگتے۔اس دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ کے اکانٹ والوں نے فنڈز تو کاٹیں ہیں مگر اب ادا نہیں کر رہے اس میں درخواست گزار کی کیا غلطی ہے ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ درخواست گزار ابتدائی طور پر وفاقی حکومت کا ملازم تھا جس کی وجہ سے مسائل آرہے ہیں ۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ منظور کرلی۔







