چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے پولیس شہدا اور زخمیوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے امدادی فنڈز کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمولی رقم بھی نہیں ہے کہ غائب ہوجائے اور اس کا پتہ بھی نہ چلے اگر متاثرین کو ادائیگی نہیں ہوئی تو یہ دو ارب روپے کہاں گئے ۔ سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں ایڈیشنل آٹارنی جنرل ثنا اللہ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، وکیل درخواست گزار پیش ہوئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار سمیت 22 زخمی پولیس اہلکاروں کو تاحال وفاق کی جانب سیمختص فنڈ نہیں ملا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز کی اعداد شمار کیا ہے۔؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت زخمی پولیس اہلکار کو 1 لاکھ اور وفاق 5 لاکھ کا فنڈ ادا کرتی ہے، درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے امدادی رقم مل چکی ہے وفاقی حکومت کی رقم نہیں ملی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ وفاق کی جانب سے پولیس فنڈز کی مد میں صوبائی حکومت کو 2 ارب 84 کروڑ کی رقم بھیجی گئی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر متاثرین کو ادائیگی نہیں ہوئی، تو یہ رقم کہا گء یہ تو معمولی رقم بھی نہیں ہے کہ غائب ہوجائے اور پتہ نہ چلیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ 84 شہدا اور 233 زخمی پولیس اہلکاروں کو ادائیگی کے لئے یہ رقم صوبائی حکومت کو دی گئی تھی جبکہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت نے جو فنڈز دیئے تھے وہ شہدا اور زخمیوں میں تقسیم کئے گئے ہیں تاہم مزید درکار رقم ابھی تک جاری نہیں ہوئی چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس شہدا اور زخمیوں کی پیکج کی مکمل رپورٹ جمع کرادیں ۔عدالت نے دوبارہ سماعت شروع کی تو اے ائی جی ویلفیئر عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وفاق کی جانب سے پولیس فنڈز کی مد میں جاری 2 ارب 84 کروڑ کی رقم بھیجی گئی کہاں خرچ کئے گئے۔ اے ائی جی ویلفئیر نے عدالت کوبتایا کہ اس رقم سے 84 شہدا اور 233 زخمی پولیس اہلکاروں کو ادائیگی کی گء اب رقم ختم ہوچکی ہے نئے فنڈز کے لئے وفاق کو خط لکھا ہے،یہ 23 زخمیوں کی لسٹ ابھی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے فنڈز ملیں گے تو سب کو ادائیگی کر دی جائے گی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین 15 دنوں میں وفاق سے جاری 2 ارب سے زائد فنڈز کے استعمال کی رپورٹ جمع کریں ، اٹارنی جنرل وفاق سے برقت شہدا پیکج کی ادائیگی یقینی بنائے، عدالت نے فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔







