متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور کرنے سے انکار کردیا

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور کرنے سے انکار کردیا ، جس کے بعد دیگر مالی آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں عالمی خبر رساں ادارے بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے مالیاتی منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا کا سامنا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے قرض رول اوور کرنے سے معذرت کر لی ہے، جس کے بعد حکومت تمام دستیاب مالی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستانی معیشت پر اضافی دبا ڈالا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فی الحال آئی ایم ایف پروگرام میں توسیع نہیں چاہتا بلکہ ادائیگیوں کے لیے متبادل اور کمرشل ذرائع استعمال کیے جائیں گے اور معاشی استحکام کے لیے حکومت نے عالمی مارکیٹس میں مختلف بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پہلی بار 25 کروڑ ڈالر مالیت کے پانڈا بانڈز جاری کیے جائیں گے، اس کے علاوہ یورو بانڈز، اسلامک سکوک اور روپے سے منسلک بانڈز بھی مارکیٹ میں لائے جائیں گے۔وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے جلد 1.3 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے، جس سے ذخائر پر دبا کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کمرشل اور دو طرفہ قرض کے نئے ذرائع تلاش کر رہا ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed